خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 701
خطبات مسرور جلد دہم 701 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012ء میرا دل کہتا ہے کہ میں نے جو وعدہ لکھوایا ہے وہ کم ہے اس لئے میرا وعدہ ڈبل کر دیں۔موصوفہ بہت نیک اور مخلص احمدی خاتون ہیں۔چھ سال قبل انہوں نے احمدیت قبول کی تھی۔محمد شہاب انسپکٹر تحریک جدید آندھرا پر دیش لکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ سکندر آباد کی ایک مخلص خاتون نے تحریک جدید کے باب میں مالی قربانی کی ایک نیک مثال قائم کی ہے۔موصوفہ کے شوہر گزشتہ سال بعارضه قلب لمبا عرصہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔بہت زیادہ زیر بار آ جانے کی وجہ سے اپنا چندہ تحریک جدید ادا نہیں کر سکتے تھے۔عنقریب ان کی بیٹی کی شادی بھی ہونے والی تھی۔سیکرٹری صاحب تحریک جدید نے اُن کی اہلیہ کو چندے کی ادائیگی کی تحریک کی تو موصوفہ نے فور ارقم ادا کر دی اور کہا کہ اس کا ذکر میرے شوہر سے نہ کرنا کیونکہ یہ رقم میں نے اپنی بیٹی کی شادی کے تحائف سے اُس کی رضا مندی سے ادا کی ہے۔ایسی قربانی کرنے والوں کی وہاں کی جماعت کو بھی فوری طور پر مدد کرنی چاہیئے۔جماعت احمدیہ کو مبٹور کے دو مخلص احمدی نوجوان مشترکہ کاروبار کرتے ہیں۔یہ لکھتے ہیں گزشتہ سال تحریک جدید میں ہم دونوں کے وعدے دس دس ہزار روپے تھے۔امسال ہم دونوں نے اپنے وعدے ایک ایک لاکھ روپے اضافے کے ساتھ لکھوائے اور ادائیگی کی توفیق ملنے کے لئے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا۔کہتے ہیں کا روبار بھی بہت کمزور رہا۔اس وجہ سے بہت فکر پیدا ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ ایک ایسا سودا ہوا جس سے پورے دو لاکھ بیس ہزار روپے کا منافع ہو گیا اور دونوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔سمار ا سرکل راجھستان کی ایک نوجوان احمدی خاتون مسماۃ ضمیری بیگم گاؤں والوں کی بکریاں چرا کر گزارا کرتی ہیں۔چندہ تحریک جدید کا مطالبہ کرنے پر موصوفہ نے بکریاں چرانے سے ملنے والی مزدوری اور جو کچھ اُن کی تحصیلی میں پہلے سے موجود تھاوہ سب اُسی وقت چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیا۔تو جس طرح میں نے کہا یہ غریبوں کے قربانی کے معیار ان لوگوں سے بہت بلند ہیں جو امیر ہیں۔اسی طرح جماعت احمد یہ نامانہ سرکل کوٹا ( راجھستان ) کی ایک نواحمدی خاتون سے چندہ تحریک جدید کا مطالبہ کرنے پر انہوں نے اپنی بچی سے ( جو چودہ سال کی عمر کی بچی تھی ) کہا کہ پچاس روپیہ دے دو۔بچی نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک سو روپیہ ہے میں وہی چندہ دوں گی۔چنانچہ ماں کے منع کرنے کے باوجود بچی نے ایک سو روپیہ چندہ ادا کر دیا۔یہ انڈیا کے مخلصین ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے انڈیا میں بھی