خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 692
خطبات مسر در جلد دہم 692 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012 ء ضروریات کے لئے ہو رہی ہوتی ہیں۔بعض تحریکات کسی ملک کی نیشنل جماعت کے کسی پروجیکٹ کے لئے ہو رہی ہوتی ہیں۔بہت سے ملکوں میں مرکزی طور پر بھی مساجد کے یا دوسرے پراجیکٹ چل رہے ہیں، کیونکہ یہ ضروریات، یہ اخراجات مستقل چندوں سے پورے نہیں ہو سکتے۔تو بہر حال مستقل چندوں کے علاوہ بھی افراد جماعت بہت زیادہ قربانی کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی ایک اکثریت اُن میں سے قربانی کرنے والوں کی ہے۔یہاں میں ایک بات کی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید اور وقف جدید کے چندے تمام کے تمام وہ چندے ہیں جو مرکزی چندے ہوتے ہیں۔ان کا خرچ مقامی یا نیشنل اخراجات پر نہیں ہو رہا ہوتا۔یا اگر بعض غریب ملکوں میں وہیں رکھے بھی جاتے ہیں تو اُن کی صوابدید پر نہیں ہوتے بلکہ مرکز سے پوچھ کر خرچ کیا جاتا ہے۔بعض دفعہ بعض امیر ملکوں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ جب یہ مرکزی چندے ہیں اور ہم پر خرچ بھی نہیں ہوتے تو پھر ہم اس میں اتنا بڑھ چڑھ کر کیوں حصہ لیں؟ ہمارے اپنے پراجیکٹس ہیں (جیسا کہ میں نے کہا لوکل پراجیکٹس بھی چل رہے ہوتے ہیں، نیشنل پراجیکٹ بھی چل رہے ہوتے ہیں ) پہلے ہم اپنے اخراجات پورا کریں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دے رہے ہیں تو پھر ایسے سوال ہی غلط ہیں۔دوسرے مرکز کے بھی بہت سارے اخراجات ہیں۔بہت سارے پراجیکٹس ہیں۔غریب ملکوں میں جن میں افریقن ممالک بھی شامل ہیں ، ایشین ممالک بھی شامل ہیں، بشمول ہندوستان، بنگلہ دیش وغیرہ، بلکہ یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہیں جہاں جماعت کی تعداد تھوڑی ہے۔ان پر یہ مرکز کی طرف سے خرچ ہوتے ہیں۔اسی طرح جو ہمارے ہونہار طلباء ہیں، طالب علم ہیں ، اُن کی تعلیم کے اخراجات بھی مرکز خرچ کر رہا ہوتا ہے۔تو اُن رقموں سے یہ اخراجات پورے ہوتے ہیں جو جماعتوں سے مرکز کو آتی ہیں۔پھر فَاسْتَبِقُوا الخيرات کی روح بھی یہ ہے کہ اپنے غریب بھائیوں کو، چھوٹی جماعتوں کو، کمزور جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہوں کہ ہم اپنے کمزوروں کو بھی اپنے ساتھ چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اسی آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے آگے یہ بھی فرماتا ہے کہ اينما تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔یعنی جب اکٹھے ہو کر حاضر ہوں گے تو جو تو نیکیوں میں مسابقت کی روح قائم رکھے رہے وہ تو سر خرو ہوں گے اور جوسستیاں کرتے رہے، دوسروں کی مدد سے کتراتے رہے ، سوال اُٹھاتے رہے کہ ہم دوسروں کے لئے