خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 690 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 690

690 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012 ء خطبات مسر در جلد دہم اُن راستوں پر چلنا جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔ان راستوں پر بھی جیسا کہ شیطان نے کہا تھا، شیطان سے آمنا سامنا ہو سکتا ہے جو نیکیوں کے بجالانے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔نیکیوں کے معیار بلند کرنے کی کوشش میں روڑے انکائے گا لیکن دل سے نکلی ہوئی یہ دعا کہ اهْدِنَا القيراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : 6) جو ہے شیطان کے حملوں کا توڑ کرتی چلی جائے گی۔نیکیوں کی بلندیوں کو ایک مومن چھوتا چلا جائے گا اور خیر امت میں سے ہونے کے اعزاز پاتا چلا جائے گا۔پس اس کے حصول کے لئے ہمارے ہر بڑے چھوٹے مرد عورت، بچے بوڑھے کو کوشش کرنی چاہئے۔تمام قسم کی نیکیاں اپنا کر اللہ تعالیٰ کے ہمارے لئے مقرر کردہ سمح نظر اور مقصد کو ہم نے حاصل کرنا ہے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جن نیکیوں کے کرنے کا ایک مومن کو حکم دیا ہے اُن میں سے ایک انفاق فی سبیل اللہ بھی ہے ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں بھی ہیں۔مالی قربانی بھی اُن مقاصد کے لئے ضروری ہے جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی اشاعت اسلام اور خدمت انسانیت۔جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ تقریباً سوا سو سال سے ان مقاصد کے حصول کے لئے افراد جماعت مالی قربانیاں کرتے چلے جا رہے ہیں، یہ قربانی اور نیکی جماعت احمدیہ کا ایسا طرہ امتیاز ہے جس کو دیکھ کر غیر جو ہیں وہ حیران و پریشان ہوتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا فہم و ادراک نہیں کہ اس کے پیچھے کیا جذ بہ کار فرہا ہے۔یقیناً یہ روح ایک احمدی میں اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا صح نظر فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کو بناتا ہے۔پس آج روئے زمین پر صرف احمدی ہیں، آپ ہیں جو کُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کا مصداق بن کر فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کو قائم کئے ہوئے ہیں، اس پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔نیکیوں کے حصول اور اُن میں آگے بڑھتے چلے جانے اور جماعت کی ترقی اور اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لئے جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرتے چلے جانے والے ہیں۔کوئی دشمن، کوئی طاقت جماعت احمدیہ کی ترقی کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی۔کوئی حکومت کوئی گروہ ہماری ترقی کی رفتار کو اُس وقت تک روک نہیں سکتا، کم نہیں کر سکتا جب تک ہم میں فاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کی روح قائم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس عاشق صادق کو مان کر ہم نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا حصہ بننے کا عہد کیا ہے، یہ عہد انشاء اللہ تعالی کبھی بھی ہم میں نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جانے کی روح کو کم نہیں ہونے دے گا۔