خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 689 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 689

خطبات مسرور جلد دہم 689 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012 ء وہی ہے کہ جب وہ ترقی کرتا ہے تو باقی افراد جماعت کی ترقی کے لئے بھی کوشاں ہوتا ہے، اُن کے لئے کوشش کرتا ہے۔اُن کو بھی نیکیوں کی دوڑ میں اپنے ساتھ شامل کرتا ہے۔اُن کے لئے بھی مواقع مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ آگے بڑھیں تا کہ جماعت کی ترقی کا پہیہ تیزی سے آگے کی طرف گھومتا چلا جائے۔جماعت احمد یہ یعنی وہ جماعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے اُس خیر کو پھیلانے کے لئے قائم ہوئی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اور اس خیر میں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی ہیں ، عبادات بھی ہیں اور مخلوق اور کل عالم انسانیت کی خدمت بھی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔انسانیت کی خدمت نیکیاں پھیلانے سے ہی ہو سکتی ہے۔رحمت بکھیر نے سے ہی ہوسکتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے مثال دی تھی بعض لوگ برائیاں کرتے ہیں اور اُس کے لئے بچوں کو تربیت دیتے ہیں ،معصوم بچوں کی جانیں لینے یا اُن سے خودکش حملے کروانے سے یہ خدمت نہیں ہوسکتی۔بموں اور توپوں اور لڑائیوں اور فسادوں سے یہ خدمت نہیں ہو سکتی۔پس آج دنیا میں من حیث الجماعت صرف جماعت احمد یہ ہی ہے جو رحمتہ للعالمین کی رحمت سے دنیا کو حصہ دلانے اور نیکیاں بکھیرنے کے لئے ہر وقت کوشاں ہے اور اس کا حق ادا کر نے کیلئے اپنی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔یہ کوشش اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اسلام کا پیغام دنیا کو دے کر بھی ہوتی ہے۔قرآنِ کریم کی اشاعت اور دنیا کے مختلف ممالک اور علاقوں کی زبانوں میں قرآنِ کریم کے ترجمے کر کے پھر اُن کو پھیلانے کی صورت میں بھی ہے۔اعلیٰ اخلاقیات دنیا کو سکھانے کی صورت میں بھی ہے۔پیار محبت کی تعلیم دنیا کو دینے کی صورت میں بھی ہے۔انسانیت کی خدمت ہسپتالوں کے ذریعے دکھی انسانیت کا علاج مہیا کرنے کی صورت میں بھی ہے۔دور دراز علاقوں میں تعلیم سے بے بہرہ بچوں کو، انسانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے پھر انہیں نیکیوں کا صحیح ادراک دلانے کی صورت میں بھی ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لا کر خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بنانے کی صورت میں بھی ہے۔پس جماعت احمدیہ کا مشن کوئی معمولی مشن نہیں ہے جو عہد بیعت ہم نے زمانے کے امام کے ساتھ باندھا ہے وہ کوئی معمولی عہد نہیں ہے۔اس کے پورا کرنے کے لئے ہمیں وہی صحیح نظر بنانا ہوگا جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے جس کی میں کچھ وضاحت کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے