خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 688
خطبات مسرور جلد دہم 688 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 نومبر 2012ء صرف کرتا ہے کہ میں نے رات کو کہاں کہاں اور کس طرح چوری کرنی ہے؟ یا ڈاکو ہیں تو وہ اپنے ڈاکے ڈالنے کے مقصد کے حصول کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔کچھ لوگ نیکی اور مذہب کے نام پر ظلم کو ہی اپنا مقصد اور صح نظر بنا لیتے ہیں اور اس کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔معصوم بچوں کو اس کے لئے مطر تربیت دیتے ہیں۔اس کے لئے روپیہ اور وقت خرچ کرتے ہیں۔بچوں کے ذہنوں کو ایک لمبی تربیت سے سوچ سمجھ سے بالکل خالی کر کے پھر اُن سے خود کش حملے کرواتے ہیں۔دہشت گردی کے حملے کروا کر معصوم جانوں کو ضائع کرتے ہیں اور بد قسمتی سے اس وقت یہ ظلم کرنے والی اکثریت وہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے اور یوں اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بدنام کرنے والے ہیں،مسلمانوں کے نام کو بدنام کرنے والے ہیں۔اور مذہب کے نام پر یہ سب فتنہ و فساد ظلم و بربریت اور معصوم جانوں کے خون سے کھیلنے والے وہ لوگ ہیں جن لوگوں کے لئے، جس مذہب کے ماننے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سمح نظر رکھا تھا کہ فَاسْتَبِقُوا الخيرات۔یعنی ہر قسم کی نیکیوں میں آگے بڑھنا تمہارا مقصد ہو۔کسی ایک نیکی کا حصول مقصود نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی نیکی کرنا اور اُس میں بڑھنا تمہارا مقصد ہونا چاہئے۔تمہارا یہ مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ہر قسم کی نیکی کرنا اور اس کا حصول تمہارا مقصد ہے تبھی تم حقیقی مومن کہلا سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيهَا۔اور ہر ایک کے لئے ایک مح نظر ہوتا ہے جس کی طرف وہ منہ پھیرتا ہے اس کو اپنا مقصد بنالیتا ہے۔وِجهة کے معنی ہیں کوئی سمت یا کوئی جانب یا جہت۔اس کے معنی راستے اور طریق کے بھی ہیں اور اس کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنا بھی ہیں۔(لسان العرب زیر ماده وجه) پس ایک مومن کے لئے یہ شرط ہے کہ اس طرف منہ کرے، اُس جانب دیکھے جس طرف دیکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور پھر اُس طرف دیکھنا ہی نہیں بلکہ جس طرف دیکھ رہا ہے، وہاں جو مختلف راستے ہیں، اُن میں سے وہ راستہ اختیار کرے جس کے اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور پھر اُس رستے کی طرف صرف منہ اُٹھا کر ہی نہیں چلتے چلے جانا بلکہ اس راستے پر چلنے کی وجہ ایک مقصد کو پانا ہے اور وہ مقصد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقررفرمایا ہے یعنی فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ نیکیوں کو نہ صرف بجالانا بلکہ اُن کے معیار بھی بلند کرنا اور ان نیکیوں کو کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا اور صرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہیں کرنا بلکہ جو کمزور ہیں، پیچھے رہ جانے والے ہیں، اُن کو بھی ساتھ لے کر چلنا۔یعنی جماعتی ترقی بھی ہر وقت ایک مومن کے مد نظر ہوتی ہے۔اس لئے حقیقی مومن