خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 681
خطبات مسرور جلد دہم 681 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء فرمایا کہ میں تو بڑا مصروف ہوں لیکن انہوں نے بتایا کہ ہم تو اطلاع کر چکے ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں لاہور آؤں گا اور ان کو کہا کہ انتظام کرو اور انہوں نے انتظام کیا۔امیر جماعت لاہور کو بعد میں پتہ لگا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی لاہور تشریف لا رہے ہیں۔بہر حال یہ اُس زمانے سے جماعت کے کاموں میں انوالو (Involve) تھے۔ملازمت کے سلسلے میں حیدر آبادر ہے۔وہاں کے قیام کے دوران اور خلیفتہ اسیح الثالث کے دور میں خدام الاحمدیہ میں انہوں نے قائد علاقہ خدام الاحمدیہ، پھر قاضی ضلع حیدر آباد کے طور پر بھی خدمت کی۔اس کے علاوہ صدرحلقہ بھی رہے۔سیکرٹری اصلاح وارشاد، نائب امیر ضلع اور 1998ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے ان کو بطور امیر شہر اور ضلع راولپنڈی مقررفرمایا۔خلافت اور نظام جماعت سے والہانہ عشق تھا۔ہر محفل میں آپ کی گفتگو کا محور جماعتی واقعات، صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے واقعات اور خلفائے احمدیت ہوتے تھے۔ہمیشہ خلافت کی اطاعت اور خلیفہ وقت سے مضبوط تعلق کی تاکیدا اپنی اولا د کو کرتے رہے۔انتہائی دعا گو انسان تھے۔بچے کہتے ہیں کہ روزانہ صبح گھر سے نکلنے سے پہلے سب کو بٹھا کر دعا کروایا کرتے تھے اور انہوں نے شروع سے ہی یہ طریق رکھا ہوا تھا۔پچھلے چند دنوں میں جب یہ ہسپتال میں رہے ہیں تو وہاں بھی غنودگی کی حالت سے جب باہر آتے تھے تو پھر بچوں کو یہی کہتے تھے کہ اب ہاتھ اُٹھا کے دعا کرلو۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔بیٹے سارے ملک سے باہر ہی ہیں اور بیٹیاں بھی باہر ہیں۔ان کی بڑی ہمشیرہ وفات پاگئی تھیں تو ان کے بچے چھوٹے تھے۔ان کی پرورش انہوں نے کی۔بلکہ ان کی بچیوں میں سے ایک بچی کو دو دفعہ بڑا صدمہ ہوا تو اس کا بڑا خیال رکھا۔ان کی جو بھانجی تھی اس کی شادی انہوں نے نوابشاہ یا سانگھڑ میں کی۔وہاں ان کی بھانجی کے جو خاوند تھے اُن کو شہید کر دیا گیا۔پھر دوسری شادی اُن کے بھائی پیر حبیب صاحب کے ساتھ کی تو اُن کو بھی کچھ عرصے کے بعد شہید کر دیا گیا۔اس طرح ان کی بھانجی کو دو دفعہ ہیوگی کو دیکھنا پڑا اور دونوں دفعہ شہداء کی بیوہ بنی ہیں۔ان کے متعلق قائمقام امیر راولپنڈی مبارک احمد صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت کا ہر رکن خواہ وہ چھوٹا ہے یا بڑا ، مرد ہے یا عورت، آپ کی شفقت بے پایاں سے ذاتی طور پر فیضیاب تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار قائدانہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔انہی خداداد صلاحیتوں کا نتیجہ تھا کہ آپ کے دورامارت میں جو نومبر 1998 ء سے شروع ہوا، جماعت راولپنڈی نے اموال ونفوس کے لحاظ سے ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی