خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 682 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 682

خطبات مسرور جلد و هم اور 682 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء اور راولپنڈی کا شمار ملک کی جو اچھی جماعتیں ہیں، اُن میں ہونے لگا۔مجموعی طور پر آپ کی جماعتی خدمات کا عرصہ نصف صدی یا پچاس سال کے عرصے میں پھیلا ہوا ہے جو خلافت ثانیہ سے شروع ہوتا ہے۔متعدد مرکزی کمیٹیوں کے ممبر رہے۔آپ کے دور امارت میں تاریخ احمدیت راولپنڈی کی تدوین اور اشاعت کا کام ہوا۔اس کے لئے آپ کو بڑھاپے اور مختلف عوارض کے باوجود کئی کئی روز مسلسل گھنٹوں بیٹھنا پڑا اور اس تاریخی دستاویز کو ایک ایک کر کے لفظ بہ لفظ پڑھا ، سنا اور پھر اس کے منظوری دی۔اسی طرح صد سالہ خلافت جوبلی کے موقع پر جماعت احمد یہ راولپنڈی کو ایک دیدہ زیب اور منفر د خلافت جوبلی سووینئر شائع کرنے کی توفیق ملی۔اس کا تمام تر سہرا بھی آپ کے سر ہے کیونکہ آپ نے اس اہم کام میں ذاتی دلچسپی لی اور مضمون نگار حضرات کو اور خواتین کو ذاتی طور پر فون کر کے مضامین لکھوائے۔جیسا کہ میں نے بتایا 1998ء میں خلیفتہ اسیح الرابع نے آپ کو جماعت راولپنڈی کا امیر مقررفرمایا تھا۔اس سے قبل آپ کو تقریباً ساڑھے چارسال تک نائب امیر کے طور پر بھی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔امارت کی یہ تبدیلی بھی بوجوہ ہوئی تھی تو اس وقت میں ناظر اعلیٰ ہوتا تھا اور اس زمانے میں یہ میرے علم میں تھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے ساتھ انہوں نے قائد خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے کام کیا ہے جبکہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع صدر خدام الاحمدیہ ہوتے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے مجھے لکھا کہ امیر ضلع کے لئے ، امیر پنڈی شہر کے لئے کوئی نام تجویز کرو۔زیادہ نام تو اس وقت میرے سامنے نہیں تھے تو میں نے انہی کا ایک نام بھیجا تھا جس کو فوری طور پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے منظور فرمایا اور فرمایا کہ ہاں ان کو میں جانتا ہوں، یہ انتظامی لحاظ سے بھی بڑے اچھے کام کرنے والے ہیں اور ویسے بھی اخلاص و وفا کے لحاظ سے بڑے اچھے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ کام سنبھالیں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے پھر خوب کام سنبھالا۔زندگی کے آخری دن تک مفوضہ ذمہ داریوں کو انتہائی احسن رنگ میں نبھایا ہے اور خلافت کے فدائی اور جان نثار وجود تھے اور اشاروں پر چلنا جانتے تھے۔اس کو ایک سعادت سمجھتے تھے اور صرف جماعتی کاموں میں نہیں بلکہ میں نے ذاتی معاملات میں بھی دیکھا ہے۔جلسے پر جب یہاں آئے ہیں تو میں نے ان کو کہا کہ کچھ عرصہ یہاں رہ جائیں لیکن ان کی اہلیہ کے چہرے کے تاثرات سے مجھے لگا کہ یہ یہاں رہنا نہیں چاہتیں لیکن انہوں نے بڑی بشاشت سے کہا کہ جب تک آپ کہیں انشاء اللہ ہم رہیں گے اور شاید یہیں ان کی وفات ہوئی تھی اور جنازہ پڑھانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا۔ابھی ان کا جنازہ بھی انشاء اللہ میں پڑھاؤں گا۔ڈاکٹر نوری صاحب سے ان کا بڑا تعلق تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کا میرے ساتھ تعلق مختلف حیثیتوں سے تھا۔