خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 680
خطبات مسرور جلد و هم 680 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012ء آپ نے کیوں نہ بتایا ؟ پھر میں نے خط و کتابت حضرت صاحب سے شروع کر دی۔جواب میں اکثر نماز بحضور دل پڑھنے کی تاکید فرماتے۔(یعنی بڑے خشوع و خضوع سے نماز پڑھا کرو۔اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہی تاکید فرماتے تھے۔اور کوئی اعتراض جو مخالفین کرتے تھے اُس کا جواب مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلم سے ہوتا تھا۔یہاں تک کہ میں نے عرض کی کہ میں نے بیعت تو پہلے حضرت خواجہ شمس الدین سیال شریف مرحوم والے کی چشتیہ طریق پر کی ہوئی ہے۔اور پھر میرے پیر صحبت اُن کے مرید مجاز خلیفہ سید حیدرشاہ صاحب مرحوم اور طریقہ قادریہ میں پیر ظہور حسین صاحب مرحوم بٹالہ ہیں۔کیا اب بیعت کی کوئی ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا وہ اور بیعت ہے۔ضروری یہی بیعت ہے جو اب کرو گے۔اس پر میں نے بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 6 صفحه 25-27 روایت حضرت مولوی امام الدین صاحب فیض) ی تھیں چند روایات جو میں نے بیان کیں۔اس وقت میں چند مرحومین کا بھی ذکر کروں گا۔جن میں سے ایک مکرم محترم فضل الرحمن خان صاحب ہیں جو امیر ضلع راولپنڈی تھے۔ان کی 29 اکتوبر 2012ء کو مختصر علالت کے بعد تر اسی (83) سال کی عمر میں وفات ہوگئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ ان دنوں میں یہیں تھے۔جلسے پر آئے تھے۔اُس کے بعد پھر ان کو میں نے کہا کچھ دیر رک جائیں۔بیماری تو ان کی کافی لمبا عرصہ سے چل رہی تھی لیکن ما شاء اللہ ذہن بالکل الرٹ (Alert) تھا اور بڑی ہمت سے انہوں نے امارت کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔یہ مکرم مولوی عبد الغفور صاحب کے بیٹے تھے جنہوں نے خلافت ثانیہ میں بیعت کی تھی۔لیکن مکرم فضل الرحمن صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ابتدائی تعلیم انہوں نے پارہ چنار سے حاصل کی۔مڈل اور میٹرک کے امتحانات بھی اعزاز کے ساتھ پاس کئے۔پھر 1848ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں داخلہ لیا۔51-50ء میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد پنجاب کالج آف انجنیئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں داخلہ لیا اور 54-1953ء میں بی ایس سی مکینیکل انجنیئر نگ اور سول انجنیئر نگ کے امتحان پاس کئے۔مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں یہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔انجنیئر نگ کالج میں تحصیل علم کے دوران حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کا پریزیڈنٹ مقرر فرمایا تھا۔اور یہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ غیر احمدی سٹوڈنٹس کے ساتھ انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ایک میٹنگ ارینج (Arrange) کی اور جب آ کے اطلاع کی تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے