خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 678 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 678

خطبات مسرور جلد دہم دکھایا گیا۔678 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء پھر اگلی روایت کرتے ہیں کہ 1906ء کو میرے بڑے بھائی عبدالحکیم تپ سے بیمار تھے۔(بخار سے بیمار ہو گئے۔) اُن کا علاج ایک طبیب مولوی جو سلسلے کا سخت مخالف تھا، کر رہاتھا اور اُس کا بڑا بھائی شمس الدین احمدی تھا۔وہ گاؤں موضع دو دہ علاقہ سکر شکر میں ہے۔اس طبیب مولوی نے حضرت اقدس کی شان میں نا ملائم الفاظ استعمال کئے۔( یعنی اچھے الفاظ استعمال نہ کئے ) میں تو موجود نہ تھا۔لیکن بھائی جو بیمار تھا انہوں نے اپنے حکیم کو روکا۔کہتے ہیں جب میں باہر سے آیا تو وہ مولوی چلا گیا تھا۔بھائی صاحب نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا کہ میں اس طبیب سے علاج نہیں کراتا۔اس نے حضرت صاحب کی شان میں گستاخی کی ہے۔غرض وہ مولوی راستہ میں ہی طاعون کا شکار ہو گیا۔پھر میں بھائی صاحب کو اپنے ساتھ بہاولنگر لے گیا وہاں دو اسسٹنٹ سر جن علاج کرتے رہے مگر آخر انہوں نے جواب دے دیا کہ اب یہ بیچ نہیں سکتے۔علاج ترک کر دو اور پیسہ خراب نہ کرو۔(شدت سے طاعون پھیلا ہوا تھا، وہ مولوی جو بد زبانی کر رہا تھا، وہ تو رستے میں طاعون کا شکار ہو کے ختم ہو گیا لیکن بھائی جو ان کا علاج کروا ر ہے تھے ، اُن کی بیماری جو ہے وہ بڑھتی چلی گئی۔بہاولپور جب لے کر گئے ہیں وہاں بھی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا)۔کہتے ہیں تب میں نے ایک سال کے بعد حضرت اقدس کے حضور خط لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جوابا تحریر فرمایا کہ فکر نہ کرو۔اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ہم دعا کریں گے۔تم بھی دعا کرو انشاء اللہ صحت ہو جائے گی“۔اس خط کے دوسرے دن میں نے دیکھا کہ بھائی کا بخار جا تا رہا۔میں نے کہا اب آپ کو بخار نہیں ہے۔میں نے اُٹھا کر بٹھایا اور خود سہارا لے کر بیٹھ گیا تو بھائی صاحب نے کہا کہ میرا سینہ جو جلتا تھا اب سرد ہے۔میں نے کہا کہ میں نے حضرت اقدس کے حضور لکھا تھا۔حضور نے جوابا تحریر فرمایا ہے کہ ہم دعا کریں گے۔خدا تعالیٰ شفا دے گا۔تب سن کر پنجابی میں کہنے لگا کہ او ہو ہن میں نئیں مردا۔مسیح نے مردہ زندہ کیتا اے“۔اس کے بعد وہ احمدی ہو گئے۔یعنی بیعت کر لی اور پھر پوری صحت ہو گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 2 صفحہ 84-85 روایت حضرت مولا دادصاحب) اس سے پہلے احمدی نہیں تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بات سننا پسند نہیں کرتے تھے۔حضرت صوفی نبی بخش صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”جس وقت حضور مسجد میں تشریف لائے اور میری نظر حضور کے چہرہ مبارک پر پڑی تو میں نے حضور کو پہچان لیا اور فوراً بجلی کی طرح میرے دل میں