خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 679
خطبات مسرور جلد دہم 679 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 نومبر 2012 ء ایک لہر پیدا ہوئی کہ یہ وہ مبارک وجود ہے جس کو میں نے ایام طالب علمی یعنی ستمبر 1882ء کو خواب میں دیکھا تھا۔حضرت صاحب نے اُس دن وہ لباس پہنا ہوا تھا جس لباس میں وہ مجھے خواب میں ملے تھے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 5 صفحہ 42 روایت حضرت صوفی نبی بخش صاحب) حضرت مولوی امام الدین صاحب فیض ولد مولانا بدرالدین صاحب فرماتے ہیں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کی پوری ہدایت رویائے صادقہ سے ہوئی جو استخارہ مسنونہ کئی بار کرنے کے بعد مجھے آئی۔جب میں پہلی دفعہ بٹالہ والے پیر صاحب کی اجازت لے کر صرف قادیان دیکھنے کے واسطے آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کے وقت پوچھا کہ وحی تو خاصہ انبیاء کا ہے۔آپ یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں۔فرمایا کہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتا ہے اور سید عبد القادر اور حضرت مجددالف ثانی ، شیخ احمد سر ہندی نے بھی فرمایا ہے کہ وحی و الہام مکاشفات الہیہ اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے۔میں نے عرض کی کہ میں بحث کرنے نہیں آیا۔مجھے تو صوفیائے کرام کی طرح سچی خواب یا الہام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے آپ کی صداقت کا یقین آئے گا۔( یعنی بحث تو میں نے نہیں کرنی۔کوئی سچی خواب آئے یا الہام ہو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو تو مجھے یقین آئے گا۔اس لئے آیا ہوں۔یہ آپ مجھے کر کے دکھا ئیں )۔آپ نے فرمایا کہ آپ استخارہ کریں۔میں نے کہا کونسا استخارہ؟ فرمایا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری صداقت اللہ تعالیٰ سے پوچھو۔عرض کی کہ کس طرح؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ استخارہ کر کے۔یہ دو باتیں تھیں جن سے مجھے یقین ہوا کہ ی شخص مگار نہیں ہے۔خیر چار ماہ بعد استخارہ مسنونہ ( چار ماہ یہ استخارہ کیا اور اس مسنونہ استخارہ کے بعد کہتے ہیں میں نے ) یہ رویا دیکھا کہ میں ایک مسجد میں آیا ہوں جو مسجد مبارک کی طرح ہے۔حضرت صاحب صبح کی نماز پڑھ کر دالان میں نہایت مبارک نورانی صورت سے آکر بیٹھ گئے۔میں نے عرض کی کہ میں آپ کے دعوی کی صداقت کا طالب ہوں۔( یعنی پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس طرح آپ کا دعوی سچا ہے؟) کہتے ہیں کہ آپ کی طرف سے یہ بڑی اونچی آواز آئی۔جس آوناسی او تے آ گیا پنجابی میں۔کہتے ہیں یہ آواز میرے دل کے اندر داخل ہو گئی اور یقین کامل ہو گیا کہ جس نے آنا تھا، یعنی مسیح موعود، مہدی موعود یہی حضرت مرزا صاحب ہی ہیں۔اثناء استخارہ ( یعنی استخارہ کے دوران) میں نے بہت دعائیں عجز و نیاز سے کیں۔ایسے بھی اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ یا اللہ ! اگر مجھے صاف پتہ نہ لگا تو قیامت کے دن اگر مجھ سے باز پرس ہوئی تو یہی کہوں گا کہ میں نے دنیا میں نہایت عجز سے دعا کی تھی کہ عیسی مہدی یہی ہے تو یا اللہ! مجھے بتادیا جائے۔