خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 666
خطبات مسر در جلد دہم 666 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء ذریعہ گاؤں کے کئی لوگوں نے بیعت کی جن میں سے ایک آپ کے پڑنا نا تھے۔آباؤ اجداد کا تعلق باجوڑی چار کوٹ کشمیر کے ساتھ ہے۔پھر بشیر صاحب سندھ میں ناصر آباد سٹیٹ میں آ کر بھی کچھ عرصہ آبادر ہے۔ان کی شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ اپنی دکان واقع بلدیہ ٹاؤن میں رات تقریباً 9 بجے بیٹھے ہوئے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار آئے جن میں سے ایک نے آپ پر تین گولیاں فائر کیں جن میں سے ایک گولی اُن کی گردن اور دوسری گولی سینے میں لگی۔اُن کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا مگر آپ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی عمر تقریباً 67 سال تھی۔کشمیر میں ان کی پیدائش ہوئی۔ان پڑھ تھے ، ناخواندہ تھے، محنت مزدوی کیا کرتے تھے۔1984ء میں کراچی شفٹ ہو گئے۔پھر فیکٹریوں میں کام کرتے رہے اور ساتھ انہوں نے اپنے گھر دوکان کھولی ہوئی تھی ، جو چھوٹی سی پرچون کی دوکان تھی۔اولاد کی تربیت بڑی احسن رنگ میں کی۔ان کا ایک پوتا عزیزم عمران ناصر پچھلے سال جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے لئے گیا تو جاتے ہوئے آپ نے اُسے دین کی خدمت کی نصائح کیں۔نظام جماعت سے مکمل تعاون کرتے تھے۔خلافت کی محبت میں خدا تعالیٰ نے اُن کے دل کو گداز کیا ہوا تھا۔اہلیہ کے علاوہ ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر ہو۔تیسری شہادت مکرم ڈاکٹر راجہ عبدالحمید خان صاحب ابن مکرم راجہ عبدالعزیز صاحب کی ہے۔1994ء میں محترم سید محمد رضا بسمل صاحب جو کہ ضلع کراچی کے معروف داعی الی اللہ ہیں اور صاحب علم بزرگ ہیں اُن کا رابطہ ڈاکٹر راجہ عبدالحمید خان صاحب شہید کے والد مکرم ڈاکٹر عبدالعزیز خان صاحب سے ہوا۔سوال و جواب کی کئی محفلیں ہوئیں جس کے بعد سب سے پہلے ڈاکٹر راجہ عبدالحمید خان صاحب شہید کو 1994ء میں ہی بیعت کر کے جماعت احمد یہ مبائعین میں شامل ہونے کی توفیق حاصل ہوئی۔اس کے تھوڑے عرصے بعد ہی آپ کے والد صاحب اور والدہ صاحبہ نے بھی بیعت کر لی۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے قبلے یوسف زئی سے ہے۔شہید مرحوم کے دادا مکرم عبد الحمید خان صاحب جن کے نام پر آپ کا نام رکھا گیا ہے، حیدر آباد دکن کے نواب کے چیف سیکرٹری تھے۔شہید مرحوم 1972ء میں کراچی میں پیدا ہوئے اور آپ نے بلدیہ ٹاؤن سے ہی انٹر تک تعلیم حاصل کی۔پھر نیوی سے انٹرن شپ کر کے نیوی میں بطور سویلین فورمین بھرتی ہو گئے۔ڈاکٹر ان کو اس لئے کہتے تھے کہ نیوی کی ڈیوٹی سے واپس آ کر اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کے کلینک میں بیٹھا کرتے تھے۔وہیں سے تھوڑی بہت پریکٹس کر لیتے تھے۔23 اکتوبر کو رات کو آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر دوموٹر سائیکل سوار آئے ہیں اور