خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 667 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 667

خطبات مسرور جلد دہم 667 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2012ء ایک شخص موٹر سائیکل پر ہی سوار رہا جبکہ دوسرا کلینک میں داخل ہوا اور اُس نے پستول سے آپ پر تین فائر کئے۔ایک گولی آپ کے بائیں گال پر لگی اور دائیں جانب گال کے اوپر سے ہی باہر نکل گئی جبکہ دوسری گولی ٹھوڑی پر نیچے کی جانب لگی۔ایک گولی بائیں کندھے پر بھی لگی جو کمر سے باہر نکل گئی۔ان تین گولیوں کے لگنے سے آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔گوکہ 94 ء کی بیعت تھی لیکن یہ بھی حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں جماعتی خدمات بطور سیکرٹری تربیت نو مبائعین انجام دے رہے تھے۔دعوت الی اللہ کا شعبہ کے آپ نگران تھے۔پھر ناظم تربیت نو مبائعین بھی خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔بڑے ہمدرد، با اخلاق مزاج کے حامل تھے۔چہرہ پر ہمیشہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ رہتی۔بڑی دھیمی آواز میں بات کیا کرتے تھے۔آپ کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ آپ ایک انتہائی خیال رکھنے والے اور محبت کرنے والے شوہر اور شفیق باپ تھے۔دین کی خدمت اور اطاعت ، خلافت سے محبت آپ کی خوبیوں میں سے نمایاں خوبیاں تھیں۔آپ کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بلدیہ ٹاؤن میں ہونے والی شہادتوں کی وجہ سے علاقے میں تناؤ تھا۔شہید مرحوم شہادت سے ایک روز قبل مجھے کہنے لگے کہ کچھ احمدی گھرانے حالات کی وجہ سے یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں، اس طرح تو دشمن اپنے عزائم میں کامیاب ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ہی آپ پر رقت طاری ہو گئی اور کہنے لگے لیکن میں نہیں ڈرتا۔میری خواہش ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں۔نیز کہا کہ کہیں آپ ڈرکا شکار تو نہیں ہیں؟ ان کی اہلیہ کہتی ہیں میں نے کہا کہ نہیں ، میں بھی نہیں ڈرتی بلکہ مجھے بھی آپ کے لئے اور اپنے لئے شہادت کا شوق ہے۔ان کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ میری تین بچیاں ہیں۔چھوٹی عمر کی بچیاں ہیں ، اُن کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کے نیک نصیب کرے۔اللہ تعالیٰ خود ان کا حافظ و ناصر ہو۔چوتھی شہادت ریاض احمد بسراء صاحب ابن مکرم چوہدری منیر احمد بسراء صاحب گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ کی ہے۔18 اکتوبر کو ان کی شہادت ہوئی۔ان کے دادا کے بھائی مکرم چوہدری غلام رسول صاحب بسراء صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل میں سے تھے۔1958ء میں یہ گھٹیالیاں کلاں تحصیل پسرور میں پیدا ہوئے۔گاؤں میں جس طرح بعض دشمنیاں چلتی ہیں، ان کی دشمنیاں چل رہی تھیں۔ان کے بڑے بھائی کو پہلے شہید کیا گیا تھا اور پھر ان کے بعض دوسرے عزیزوں رشتہ داروں کو بھی۔اُن کی دشمنیاں آگے چل رہی تھیں لیکن بظاہر لگتا ہے کہ یہ براہ راست اُس میں انوالو (Involve) نہیں تھے لیکن جماعتی خدمات اور ایک رعب کی وجہ سے وہاں کے علاقے کے بعض لوگ ان کے کافی خلاف تھے اور