خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد دہم 61 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012ء بات کی گواہی ضرور دیں گے کہ اُن کو ہمیشہ ہر کام میں بہت جلدی ہوتی تھی جیسے اُن کے پاس بہت کم وقت ہو۔اور یہ میں نے بھی دیکھا ہے۔بڑی جلدی جلدی ہر کام نمٹانے کی کوشش کرتے تھے اور اس کم وقت میں ہی انہوں نے ہزاروں کام ختم کرنے ہیں۔کام کرتے ہوئے کئی بار ان کو کہنا بھی پڑتا تھا۔خدا کا واسطہ ہے ذرا رک جائیں۔تھوڑا سا وقفہ کر لیں تو ہنس کر کہتے تھے کہ کیا تم لوگ تھک گئے ہو؟ میں تو بالکل نہیں تھکا۔کام کے دوران اگر کھانے کا وقت آجاتا تو کھانا جلد سے جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تا کہ دوبارہ کام کو جاری رکھا جا سکے۔ہمیشہ رشیا اور دیگر ریاستوں میں جماعت کی ترقی کی فکر رہتی تھی۔وہ جب بھی لندن سے ماسکو تشریف لاتے تو ہمیشہ مختلف پروگرام بناتے اور تجاویز پیش کرتے کہ ہم جب تک رشیا میں یہ یہ امور مد نظر نہ رکھیں یا ان طریقوں سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کریں تو جلد لوگوں تک احمدیت کا پیغام نہ پہنچ سکے گا۔ماسکو اور قازان کے مشن ہاؤسز با قاعدہ ایک الگ گھر یا عمارت کی شکل میں نہیں ہیں بلکہ فلیٹس میں ہیں۔اس لئے اکثر کہتے تھے کہ لوگ جماعتی سینٹر کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوئی بڑی کشادہ بلڈنگ آتی ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ جماعت کی ترقی کے لئے بجائے ان فلیٹس کے اب بڑی بڑی بلڈنگ خریدیں، اور جب بھی کوئی تجویز لے کر یہ میرے پاس آتے تھے تو میں نے دیکھا ہے کہ اگر اُس میں اخراجات زیادہ ہوں تو بعض دفعہ اس وجہ سے یا اور وجوہات سے اگر میں رَد کر دیا کرتا تھا تو بڑے انشراح صدر کے ساتھ فوراًبات مان لیا کرتے تھے اور کبھی بھی اُن کے چہرے پر میں نے کسی طرح بھی انقباض نہیں دیکھا۔اور پھر یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی تجویز رد کر دی ہے تو مایوس ہو کے بیٹھ گئے۔اس کے بعد پھر فوراً متبادل تجویز لے کے آتے تھے جو کم خرچ ہوتی تھی یا کسی اور طرز پر اُس کام کے کرنے کا طریق ہوتا تھا۔غرض فکری تھی کہ کسی نہ کسی طرح جلد سے جلد احمدیت کا پیغام پورے روس میں پہنچ جائے۔ہمارے ایک مبلغ حافظ سعید الرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ راویل صاحب کو احمدیت قبول کئے ہوئے صرف ہیں بائیس سال کا ہی عرصہ گزرا تھا لیکن خلافتِ احمدیہ سے ان کا عشق و محبت اور مقام خلافت کا ادراک دیکھ کر ہمیشہ لگتا تھا جیسے وہ نسل در نسل احمدی چلے آتے ہیں۔بعض باتیں اُن کی ایسی تھیں جو بہت سے احمدیوں کے لئے بھی ایک سبق ہیں۔کہتے ہیں کہ رشیا میں جماعت کی ترقی اور فروغ کے لئے وہ ہمیشہ سے بہت درد اور جوش و جذبہ رکھتے تھے۔رشیا میں تبلیغ کے کام کو زیادہ پھیلانے اور تیز کرنے کے لئے وہ خلافت رابعہ اور خلافت خامسہ کے دور میں خلفائے وقت کے سامنے اپنی تجاویز پیش کرتے رہتے تھے