خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 60
خطبات مسرور جلد دہم 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2012 ء دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں وہ یہ تھیں کہ وہ ایک نہایت عاجز اور منکسر المزاج انسان تھے ، جن کو خلافت سے محبت اور عشق تھا۔خلیفہ وقت کے ساتھ ایک مضبوط روحانی رشتہ تھا جس کے سامنے اُن کی نظر میں کسی دوسری چیز کی کوئی وقعت نہیں تھی۔حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر کر دیتا ہوں۔گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں میرے ساتھ اُن کی میٹنگ تھی تو خالد صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار اور ر اویل صاحب آپ کے دفتر میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو راویل صاحب نے یہ تجویز پیش کی ( مجھ سے انہوں نے پوچھا) کہ اگر اجازت دیں تو رشین زبان میں ایک پوری کتاب تیار کی جائے جس میں جماعت کا مکمل تعارف اور اس کی تاریخ کا ذکر ہو۔نیز اس میں اُن اعتراضات کی وضاحت کی جائے جو عامتہ المسلمین کی طرف سے وقتاً فوقتاً اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ ان کو مولویوں نے جماعت کے بارے میں غلط معلومات دی ہیں جن کی وجہ سے رشیا میں آئے دن ایسے اعتراضات مختلف ویب سائٹس پر نظر آتے رہتے ہیں۔تو میں نے اُن کو کہا کہ ٹھیک ہے۔پھر کتاب لکھیں۔لیکن خاص طور پر ایک ایک کر کے ان اعتراضات کے جوابات چھوٹے چھوٹے مضامین کی شکل میں تیار کریں اور اُن کو شائع کریں اور پھر ویب سائٹس پر بھیجیں۔یہ سن کے راویل صاحب نے فوراً کہا جی حضور ! خالد صاحب کہتے ہیں کہ میٹنگ کے بعد ہم باہر نکلے تو را ویل صاحب کہنے لگے کہ اتنے دنوں سے میں سوچ رہا تھا کہ اس کام کو شروع کہاں سے کیا جائے۔آج حضور نے میری مشکل کو آسان کر دیا اور اب میرے ذہن میں سارا نقشہ آ گیا ہے کہ اس کتاب کو ان مضامین کی شکل میں کیسے شائع کرنا ہے اور یہ صرف خلافت کی برکت سے ممکن ہوا اور کہنے لگے کہ یہ کام تو میں آج سے ہی شروع کرنے جارہا ہوں۔اس کے علاوہ رشین ویب سائٹس کی تیاری کی تجویز تھی، اُس کو بھی جب میں نے کہا کہ جلدی جائزہ لے کر رپورٹ دیں اور کون بنائے گا اور کس طرح کام ہو گا اور اس کو آپ لوڈ کون کرے گا؟ آپ ڈیٹ کون کرتا رہے گا؟ کیا طریقہ ہوگا؟ تو راویل صاحب نے اس سلسلہ میں نسیم رحمت اللہ صاحب سے رابطہ کیا۔پھر جرمنی کے ملک ثمر امتیاز صاحب ہیں اُن سے رابطہ کیا جن کے ذریعے سے پھر یہ کام شروع ہو گیا تھا۔لیکن اس پر ابھی کام ہو ہی رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کو بلاوا آ گیا۔بہر حال انہوں نے فوری طور پر جب یہ سنا کہ ویب سائٹ شروع کرنی ہے، کام شروع کرنا ہے تو اُس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔خالد صاحب ہی یہ لکھتے ہیں کہ راویل صاحب کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وقت ضائع کئے بغیر کام کرتے رہتے تھے۔جو لوگ اُن کو قریب سے جانتے ہیں اور اُن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہو، وہ اس