خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 645 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 645

خطبات مسرور جلد دہم 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء (1927 ء ) تک ہائی سکول کے ہیڈ کلرک رہے۔یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود کو میں اُس وقت سے مانتا تھا جس زمانے میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہوا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹر نمبر 7 صفحہ 88-89۔روایات حضرت ماسٹر عبدالرؤف صاحب) پھر ایک روایت حضرت مولوی محمد عبد العزیز صاحب ولد مولوی محمد عبداللہ صاحب کی ہے۔ان کا بیعت کاسن 1904ء ہے۔کہتے ہیں قبل اس کے کہ میں اپنی بیعت اور چشم دید حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان کروں ، ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے والد صاحب مرحوم جناب مولانا مولوی محمد عبد اللہ صاحب مغفور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات بیان کروں۔(ان کے واقعات بھی بڑے دلچسپ ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بڑا امتحان لینے کی کوشش کی تھی اور پھر جب ہر طرح سے تسلی ہوگئی تو پھر انہوں نے بیعت کی تھی۔بہر حال کہتے ہیں) کیونکہ آپ نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور آپ کے بہت سے چشم دید واقعات تھے جو قلمبند نہیں ہو سکے اور آپ رخصت فرما گئے ( یعنی وفات پاگئے ) لہذا ضروری ہوا کہ حسب مقولہ الْوَلَدُ سِر لِأَبِيه۔(اور فارسی میں کہتے ہیں کہ ) و چیزے کہ پدر تمام نہ گند پسرش تمام گند۔( یعنی کہ جو کام باپ نہیں کر سکا وہ بیٹا مکمل کرے)۔وہ حالات بیان کر دوں۔تو کہتے ہیں بہر حال جناب والدم بزرگوار مولوی محمد عبد اللہ صاحب ساکن موضع بھینی ڈاکخانہ شرقپور ضلع شیخو پورہ اہل حدیث خیال کے تھے اور قوم کے بہت بڑے لیڈر تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی نے اُن کو انجمن اہل حدیث کا ڈپٹی کمشنر تجویز کیا ہوا تھا۔اُس علاقے میں یہ بہت بڑے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور ان کی نمائندگی کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں آپ کی شہرت کی وجہ سے موضع تھے غلام نبی ضلع گورداسپور والوں نے جو اہلحدیث تھے، آپ کو اپنے پاس بلایا اور انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے قریب ایک قصبہ قادیان ہے جہاں حضرت مرزا غلام احمد صاحب رہتے ہیں اور الہام کے مدعی ہیں اور انہوں نے ایک لڑکے کے متعلق پیشگوئی کی ہوئی ہے جو پوری نہیں ہوئی۔پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور ازاں بعد ایک لڑکا پیدا ہوا ( یہ پیشگوئی مصلح موعود کا ذکر کر رہے ہیں۔) غیر احمدی مولویوں نے ان کو کہا کہ پہلے تو لڑکی پیدا ہوئی اور پھر لڑکا پیدا ہوا جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہو گیا۔چلو ایسے شخص سے چل کر مناظرہ کیا جائے۔(ان کے نزدیک یہ الہام وغیرہ یا وحی وغیرہ نہیں ہوسکتی تھی جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی تھی۔تو ان کو بلایا گیا کہ چلیں مناظرہ کریں۔) چنانچہ آپ ان دنوں