خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 646

خطبات مسر در جلد دہم 646 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی دعوی نہ تھا صرف الہام کا سلسلہ جاری تھا اور حضور کتاب براہین احمدیہ لکھ رہے تھے قادیان میں تشریف لائے۔( ان کے والد جن کا یہ ذکر کر رہے ہیں ) اور حضور سے پیشگوئی مذکورہ بالا کے متعلق بھی گفتگو ہوئی ( یعنی پیشگوئی مصلح موعود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔) اور سوال کیا کہ اگر آپ کے الہامات صحیح ہوتے تولڑ کے والی پیشگوئی کیوں پوری نہ ہوتی۔پہلے لڑکی پیدا ہوئی پھر لڑکا پیدا ہوا اور وہ بھی مر گیا۔کیا یہ پیشگوئیاں اسی قسم کی ہوا کرتی ہیں۔تو کہتے ہیں میرے والد بزرگوار فرمایا کرتے تھے کہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے متعلق کوئی پیشگوئی فرمائی تھی ؟ تو مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حج کے بارے میں پیشگوئی ہے، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر فر ما یا کیا پھر وہ اسی سال ہی پوری ہو گئی تھی اور آپ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حج کر کے واپس تشریف لے آئے تھے ؟ تو اس پر ان کے والد مولوی صاحب نے کہا کہ اگر اس سال حج نہ ہوا تھا تو اُس سے اگلے سال تو ہو ہی گیا تھا۔حضرت صاحب نے (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ) کہا کہ میں نے کب کہا تھا کہ اسی سال لڑکا پیدا ہو جائے گا۔یہ خدا کی پیشگوئی ہے جو پوری ہوگی اور ضرور پوری ہوگی، خواہ کسی سال ہی پوری ہو کیونکہ اس کا ایک عرصہ ہے۔(معین ایک سال تو نہیں تھا، اس کا عرصہ بتایا گیا تھا) اس پر سلسلہ کلام ختم ہوا اور مولوی صاحب نے کوئی نیا سوال نہ کیا۔مگر اس اعتراض پر اُن کا اصرار رہا کہ آپ کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔(لیکن بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کے بعد اپنے اشتہار جو 22 مارچ 1886ء میں دیا تھا اُس میں حد بندی بھی کر دی تھی کہ وہ موعود نو برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا اور پھر یکے بعد دیگرے کئی ایک اشتہارات میں اُس کا ذکر بھی فرمایا تھا۔بہر حال یہ خود ہی آگے کہتے ہیں کہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی یا حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی پیدا ہوئے۔پھر آگے ذکر کرتے ہیں کہ ) چونکہ مولوی صاحب موصوف ( یعنی ان کے والد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بحث کرنے آئے تھے ) علوم عربی و فارسی میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور علوم صرف ونحو، منطق ، بدیعی ، بیان وغیرہ میں لاثانی انسان تھے ، اپنے علم کے خیال میں اس نکتہ معرفت اور جواب باصواب سے انہوں نے کوئی استفادہ نہ کیا ، ( یعنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بحث ہوئی تھی ، اُس سے وہ کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے ) اور یہ سچ ہے کہ كُلُّ اَمْرٍ مَرْهُونَ بِأَوْ قَاتِهَا۔کہ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔اُس وقت آپ انکار پر مصر رہے۔(وہیں انکار پر اصرار کرتے رہے۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام