خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 644
خطبات مسرور جلد دہم 644۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء جانے کی ضرورت نہیں ہے۔) لکھتے ہیں کہ دسویں جماعت کا امتحان میں نے راولپنڈی میں دیا (جس زمانے میں چاند گرہن اور سورج گرہن 1311ھ میں ہوا تھا۔وہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اُس وقت میں مڈل کی جماعت میں پڑھتا تھا۔) جب میں امتحان سے سن 98ء میں ( 1898ء میں ) فارغ ہو چکا تو میرا بھائی غلام الہی مجھ کو قادیان میں اپنے ہمراہ لایا۔اُس وقت میں نے مرزا صاحب کی دستی بیعت کی۔اُس وقت چھوٹی سی مسجد تھی۔کچھ دن رہ کر پھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بھیرے میں واپس چلا آیا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب میرے بھائی کے واقف تھے۔اس لئے انہوں نے میرے بھائی کولکھا کہ اپنے بھائی عبدالرؤف کو قادیان بھیج دو۔آخر خدا کے فضل سے 1899ء میں پھر دوبارہ قادیان پہنچا اور مولوی صاحب اور حضرت صاحب کی ملاقات کی۔مولوی صاحب کو میری تعلیم کا علم تھا۔اور میں غریب آدمی تھا۔یعنی یہ پتہ تھا کہ جو اس زمانے کی تعلیم تھی اُس کے مطابق میں پڑھا لکھا ہوں۔لیکن غریب آدمی بھی ہوں اس لئے مولوی صاحب نے مدرسے میں مجھے ملازمت کی جگہ دے دی جو سن 1899ء میں آٹھ روپے ماہوار پر دوم مدرس پرائمری کے عہدے پر مقرر ہوا۔اُس وقت چھ سات جماعتیں تھیں۔مڈل کی کلاس نہیں ہوتی تھی۔آخر میں نے مدرسی کا کام سن 1902 ء تک کیا۔اُس زمانے میں مولوی شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ تھے۔پرائمری طلباء کو تعلیم بھی دیتا اور پانچوں نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ ادا کرتا جبکہ اُس وقت مولوی عبد الکریم صاحب امامت کراتے تھے۔پانچوں نمازوں میں حضرت صاحب کی مجلس میں بیٹھتا۔جب گھر سے تشریف لاتے تو حضرت صاحب نماز پڑھنے سے پہلے اپنے الہامات، کشف ، رؤیا اور خواہیں سناتے۔میں بھی اُن سے حظ اُٹھاتا۔نماز کے وقت موقع پا کر پاؤں دبا تا مٹھی چاپی کرتا۔کچھ عرصہ تو حضرت صاحب مغرب کے وقت کھانا مسجد میں کھاتے اور میں بھی مہمانوں کے ساتھ مسجد میں کھانا کھاتا۔حضرت صاحب کا جوٹھا وغیرہ بھی کبھی کبھی بطور تبرک کے چکھ لیتا۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت صاحب مسجد مبارک کی شاہ نشین پر بیٹھتے۔رنگا رنگ کے کلمات الہیہ، کشف اور خواہیں سناتے۔علی ھذا القیاس۔مسٹرڈوئی، چراغ دین جمونی اور مولوی کرم دین ساکن بھیں کے متعلق الہامات اور خوا میں بھی ہوتیں۔یہ بیان فرماتے۔یہ تمام باتیں کتابوں میں شائع ہو چکی ہیں۔دوبارہ تحریر کرنے کی ضرورت نہیں۔ماسٹر عبدالرؤف صاحب کے بارے میں مزید وہاں حاشیہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ صدر انجمن احمد یہ کے پینشنر تھے، سابق ہیڈ کلرک تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان۔1899ء میں یہ سکول میں آئے، 1902 ء تک یہ ٹیچر رہے۔اُس کے بعد دفتر ریویو آف ریلیجنز میں کام کیا۔پھر چھ (1906ء) سے ستائیس سن