خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 643 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 643

خطبات مسرور جلد دہم 643 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء لکھنے کی ہدایت کرنا جب یاد آتا ہے تو طبیعت پر بجلی سا اثر ہو کر آنسوؤں کا تار بندھ جاتا ہے۔وہ کیسا مبارک زمانہ تھا۔مخالفت کے زبر دست پہاڑ ،سمندر، طوفان خدا کے پیارے نبی کی دعاؤں سے اُڑنے کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔(میں نے یہ جو مخالفت کے پہاڑ تھے، خدا کے پیارے نبی کی دعاؤں سے ان کے اُڑنے کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا) اور اشد ترین دشمن کو مقابلے پر آنے سے لرزاں دیکھا۔غیروں کے علماء و فضلا تو در کنار سلسلہ حقہ احمدیہ کے عالموں کا علم بھی اس چودھویں کے چاند تلے اندھیرے کا کام دے رہا تھا اور کسی کو کسی مسئلے پر حضور کی موجودگی میں دم مارنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔الغرض بیعت کی۔دعا کے بعد حضور نے مصافحہ سے سرفراز فرمایا اور اجازت دے دی۔جب جماعت احمدیہ گجرات کے احباب نے مع نواب خان صاحب تحصیلدار میری اس ملاقات کا ذکر سنا تو رشک سے کہنے لگے کہ ہم کو کیوں نہ ساتھ لے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹر نمبر 1 صفحہ 178 تا 182۔روایات حضرت ڈاکٹر عمر دین صاحب) پھر ایک روایت حضرت ماسٹر عبد الرؤوف صاحب ولد غلام محمد صاحب کی ہے۔ان کا سن بیعت 1898 ء ہے اور اسی سال انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت بھی کی۔کہتے ہیں کہ شروع زمانے میں جبکہ میری عمر بچپن کی تھی اور اُس وقت بھیرہ ہائی سکول میں تعلیم پاتا تھا۔اُس وقت یہ چر چا ہمارے بھیرہ میں ہوا کہ قادیان میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔کہتے ہیں ہوتے ہوتے ہمارے محلے میں بھی اسی طرح خبر پہنچی کہ ایک شخص جس کا نام مرزا غلام احمد ہے امام مہدی ہونے کا دعوی کرتا ہے۔کہتے ہیں میں تو بچہ تھا اتناعلم نہ تھا۔مگر میرا بھائی جس کا نام غلام الہی ہے اُس نے کتابیں پڑھ کر مرزا صاحب کی بیعت کر لی اور اُس کا نام 313 صحابہ میں درج ہے۔(ان کا نام انجام آتھم میں جو فہرست ہے اُس میں 249 نمبر پر مستری غلام الہی صاحب بھیرہ کے نام سے درج ہے۔) بہر حال کہتے ہیں میرے بھائی نے اپنے گھر کے تمام آدمیوں کے نام بیعت میں لکھوا دیئے۔اُس وقت میں بھی مرزا صاحب کی کتابیں اور اشتہار جو محلے میں آتے ، پڑھا کرتا تھا اور اپنی مسجد میں بھی رات کے وقت پڑھ کر سناتا۔گنگا بشن اور عبد اللہ آتھم تو اب تک یاد ہے۔( جو بھی اشتہار ان کے بارے میں تھے۔) بہر حال مجھے بھی مرزا صاحب کو ملنے کا شوق پیدا ہوا۔یعنی مجھے شوق پیدا ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملوں اور میں مغرب کی نماز کے بعد وہیں بھیرہ میں ہی ایک پل پر بیٹھ کر دعائیں کیا کرتا تھا کہ اے الہی ! اگر مرز ا سچا ہے تو مجھے بھی قادیان پہنچا اگر جھوٹا ہے تو اسی جگہ بٹھا۔( یعنی بھیرہ میں ہی رہوں، پھر مجھے وہاں