خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 642 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 642

خطبات مسر در جلد دہم 642 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء کہ میں دور دراز ملک سے آیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس سے تنہائی میں ملاقات ہو جاوے۔آپ مجھے کوئی طریقہ بتا دیو ہیں۔انہوں نے فرمایا اس دروازے میں ایک مائی بوڑھی حضرت اقدس کی خادمہ اکثر آتی جاتی ہے۔اُس سے کہیں۔ایک بوڑھی سی مائی ہے اُس سے کہو ) ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ خادمہ نظر آ گئی۔میں نے بھاگ کر کہا کہ مائی جی میں بہت دور دراز ملک سے آیا ہوں اور حضرت اقدس کی تنہائی میں ملاقات کا اشتیاق ہے۔مہربانی ہوگی اگر حضور کی خدمت میں مسافر کا پیغام پہنچا د یو یں۔مائی صاحبہ نے نہایت شفقت اور خوشی سے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔میں آتی ہوں۔وہ جاتے ہی واپس آگئی اور خوش خبری سنائی کہ میری مراد پوری ہو گئی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا ہے اوپر آجائیں۔میں جھٹ بھاگ کر اپنے والد صاحب مرحوم کو بمع دوسرے چند غیر احمدی دوستوں کے جو میرے ہمراہ تھے ، بلا کر لے آیا اور جونہی ہم اوپر گئے۔ایک صحن میں کھڑے ہی ہوئے تھے کہ کھڑکی کا دروازہ کھلا اور حضرت اقدس نے باہر آتے ہی السلام علیکم کہا۔افسوس ہم کو پہلے السلام علیکم کہنے کا موقع نصیب نہ ہوا۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہل کی۔) کہتے ہیں میرے والد شریف مرحوم باوجود مخالف ہونے کے حضور کے قدموں میں گر پڑے۔حضور نے از راہ کرم اپنے دستِ مبارک سے اُن کے سر کو اُٹھا کر کہا کہ سجدہ کی لائق ذات باری ہے۔بندوں کے آگے نہیں جھکا کرتے ، صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں۔پھر اس عاجز نے شتر مرغ کے چارانڈے بطور نذرانہ پیش کئے۔حضور نے ازراہ کرم منظور فرمائے اور نہایت شفقت اور محبت سے میرے افریقہ رہنے اور سفر وغیرہ کے حالات دریافت کئے اور میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر فرمایا کہ اس دنیا میں دل نہیں لگانا چاہئے۔اور پھر فرمایا کہ اپنے آپ کو اُس مسافر کی حیثیت میں سمجھنا چاہئے جیسے کوئی مسافر خانے میں ٹکٹ لے کر گاڑی کا انتظار کر رہا ہو۔اور مجھے کثرت سے استغفار پڑھنے کے لئے حضور نے تاکید فرمائی اور فرمایا کہ با قاعدگی سے خطوں میں دعا کے لئے لکھتے رہا کرو۔پھر حضور نے میرے والد شریف کی بمع دو تین اور غیر احمدیوں کے جو میں ہمراہ لے گیا تھا، بیعت لی۔( یا تو مخالف تھے یا ایک ملاقات میں ہی سب بیعت پر راضی ہو گئے ) اور اس قدر رو کر دل سے ہمارے لئے دعا فرمائی۔( بیعت کے بعد جو دعا ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قدر رو کے دعا کی ) کہ حضور کی آنکھیں پر آب ہو گئیں اور ہمارے لئے آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو گیا۔دل اس قدر نرم اور گداز ہو گیا کہ آج دن تک ( یعنی آج کے دن تک ) بھی حضور کے دستِ مبارک میں ہاتھ دینا، حضور کا نورانی چہرہ دیکھنا، حضور کی شفقت بھری شرمیلی آنکھوں کا پُر آب ہونا اور مجھ عاجز، کمزور گناہگار کے لئے ہدایت، استغفار کرنا اور بار بار دعا کے لئے