خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 641 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 641

خطبات مسرور جلد دہم 641 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء کریگو ( غالباً کر بچو ہوگا ) سٹیشن سے جو کسو موضلع میں واقع ہے اور جرمن ایسٹ افریقہ کی سرحد پر ہے اور جہاں کے ہسپتال کا میں انچارج تھا۔مؤرخہ 30 جون 1905 ء بذریعہ خط خدا کے پیارے محبوب کی بیعت کی۔کہتے ہیں بیعت کرنے کے بعد پھر کیا تھا۔عبادت میں وہ لطف آنا شروع ہوا جو میرے وہم و گمان میں نہ تھا۔کیونکہ فرشتوں کے نزول پاک کا زمانہ تھا اور ہر ڈاک میں پیارے مسیح موعود علیہ السلام پر تازہ وحی ہوتی اور پوری ہوتی سنی جاتی تھی اور دل ہر وقت حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے تڑپتا رہتا تھا اور حد سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے کی بیقراری بڑھنی شروع ہو گئی۔( کیونکہ خط کے ذریعہ سے بیعت کی تھی۔دستی بیعت نہیں ابھی ہوئی تھی۔کہتے ہیں بہر حال ) خدا خدا کر کے میری رخصت کا وقت قریب پہنچا۔خدا نے میرے پیارے مسیح کے نذرانہ کی تحریک میرے دل میں ڈالی ( کہ نذرانہ پیش کرنا ہے) تو اس کے لئے کہتے ہیں میں نے سوچا کہ چار شتر مرغ کے انڈے لے جانے چاہئیں اور یہ فیصلہ کیا۔مجھے اُن کے حاصل کرنے اور پرمٹ لینے کے لئے جرمن پورٹ سے کوشش کرنی پڑی۔کیونکہ ایسٹ افریقہ سے اجازت نہ دی جاتی تھی۔کہتے ہیں کہ اکتوبر 1907ء کو میں اپنے وطن کو روانہ ہوا۔گجرات پہنچنے پر میں نے اپنے والد صاحب مرحوم اور بھائی صاحب مرحوم کو سلسلہ احمدیہ کا مخالف پایا جن کے لئے ہر نماز میں پھر میں نے رو رو کر دعائیں مانگنی شروع کر دیں۔کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے میری مدد کی اور میرے والد صاحب بمع چند اور دوستوں کے جلسہ سالانہ پر جانے کے لئے راضی ہو گئے۔(بڑی منت وغیرہ کی۔دعائیں کیں تو خیر والد اور بھائی جلسہ پر قادیان جانے کے لئے راضی ہو گئے۔پھر کہتے ہیں) 1907ء کے جلسہ سالانہ پر اپنی گجرات کی جماعت کے ساتھ ہم قادیان شریف کی پیاری بستی میں جا پہنچے۔میں نے پہنچتے ہی عجیب نظارہ دیکھا کہ سب جماعتیں اور بڑی بڑی بزرگ ہستی کے احباب حضرت اقدس کی ملاقات کے لئے سخت بیقرار اور ترس رہے ہیں اور ملاقاتوں کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔میری حیرت اور فکر کی انتہا نہ رہی کیونکہ میں ایک مسافر کی حیثیت میں ایک دور دراز ملک سے تھوڑے عرصے کے لئے گیا تھا اور ملاقات کے لئے دو سال سے تڑپ رہا تھا اور یہ میری دلی آرزو تھی کہ حضرت اقدس کی ملاقات کا موقع تنہائی میں میسر آئے جو بات بنتی نظر نہ آتی تھی۔( کیونکہ رش بہت تھا، لگتا نہیں تھا کہ تنہائی میں ملاقات ہو سکے گی) کہتے ہیں ہماری جماعت احمد یہ گجرات لنگر خانے میں کھانا کھانے میں مصروف تھی اور میں ملاقات کی فکر میں ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے مسجد مبارک کے نیچے کی گلی سے گزر رہا تھا کہ ایک بھائی کو اُس رستہ سے گزرتے ہوئے دیکھ کر میں نے پوچھا ( کوئی شخص وہاں کھڑا تھا)