خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 640 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 640

خطبات مسرور جلد دہم 640 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2012ء بیان فرماتے ہیں کہ اگر چہ میرے والد صاحب ملک برکت علی صاحب 98-1897ء سے احمدی تھے اور میں بھی اُن کی اقتداء میں بچپن سے احمدی تھا تا ہم 1904ء میں جبکہ میری عمر چودہ یا پندرہ سال کے لگ بھگ تھی ، میں نے حضور کی خود بیعت کی۔جب کوئی شخص بیعت کرتا تھا، ہم بھی بار بار بیعت کر لیتے تھے تا کہ ہم بھی حضور کی اس دعا میں جو حضور علیہ السلام بعد بیعت فرمایا کرتے تھے ،شامل ہو جائیں۔بعض وقت بہت آدمی بیعت کرنے والے ہوتے تھے تو لوگ اپنی اپنی پگڑیاں اُتار کر حضور کے ہاتھوں تک پہنچا دیتے تھے اور ان پگڑیوں کو سب لوگ پکڑ لیتے تھے اور اس طرح بیعت ہو جاتی تھی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔رجسٹر نمبر 3 صفحہ 227 تا 228۔روایات حضرت ملک برکت اللہ صاحب) حضرت ڈاکٹر عمر دین صاحب کی روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ میں 28 جولائی 1879ء کو پیدا ہوا اور بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 30 جون 1905ء کو کی اور وصیت 23 جولائی 1928ء کو کی۔پھر اپنا وصیت نمبر بھی لکھا ہے 2898۔کہتے ہیں جماعت احمدیہ نیروبی کا پریذیڈنٹ اکتوبر 1924ء سے دو سال تک رہا۔پھر انتظامیہ کمیٹی کا ممبر رہا۔جماعت احمدیہ نیروبی کا پندرہ سال سے محاسب ہوں۔( جب یہ بیان فرما رہے ہیں تو اس وقت فرماتے ہیں کہ پندرہ سال سے محاسب ہوں ) اور تین سال سے سیکرٹری وصایا وضیافت ہوں۔میں اس ملک میں 1900ء کی فروری میں ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صوفی نبی بخش صاحب اکا ؤنٹنٹ اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب وغیرہ کے زمانے میں آیا۔ڈاکٹر رحمت علی صاحب کے اخلاق فاضلہ، شفقت اور ہمدردی کو دیکھ کر کثرت سے لوگ سلسلہ حقہ احمد یہ میں شامل ہوتے دیکھے۔یہی پہلا موقع تھا جب اس بادی زمانہ کے پیغام کی آواز میرے کانوں نے سنی۔(اب یہ دیکھیں کہ ایک شخص کے صرف اخلاق فاضلہ جو ہیں اور شفقت جو ہے اور انسانی ہمدردی جو ہے اُس کو دیکھ کر بہت سارے لوگوں کو توجہ پیدا ہوئی کہ کونسامذ ہب ہے، کون شخص ہے اور پھر احمدی ہوئے۔) بہر حال کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قسمت کے مقدمے کو بارگاہ ایزدی میں پیش کر دیا۔( یعنی اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری قسمت میں کیا ہے ) اور نہایت تضرع، ہمت اور استقلال سے ہر روز تہجد میں دعا مانگنی شروع کر دی کہ اے میرے پیارے رب اور غیب کے جاننے والے خدا! میری فریاد سن اور میری رہبری کر اور مجھے اُس راستے پر چلا جو تیرے علم میں صحیح ہوتا کہ میں کہیں راہ ہدایت سے دور نہ پھینکا جاؤں۔کیونکہ میں خود تو عاجز ، کمزور، گناہگار اور کم علم ہوں، وغیرہ وغیرہ۔پس کہتے ہیں کہ میرے مولیٰ نے میری فریا دسن لی اور کچی خوابوں کا لسلہ شروع ہو گیا۔پھر مجھے نہایت صفائی سے دو خوا ہیں دکھلائی گئیں جن کی بنا پر میں نے