خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد دہم 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء سے بچ سکے۔دنیا کے نجات دہندہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہر حقیقت پسند منصف اور بچے غیر مسلم کا بھی یہی بیان ہوگا جیسا کہ میں نے آپ کو بہت سارے اقتباس پڑھ کر سنائے اور بے شمار اور بھی ہیں۔پہلے انبیاء کی سچائی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہی ثابت ہوتی ہے اور آپ کے ذریعہ سے ہی ثابت ہوتی ہے۔یہ ہے مقام ختم نبوت جس کا ہر احمدی نے دنیا میں پر چار کرنا ہے اور اس کے لئے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اس ضمن میں یہ بھی بتا دوں کہ کل سے ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے جو آج اس وقت ختم ہوگئی ہوگی ، جس میں سیاسی باتوں اور اخلاق باختہ تقریروں اور احمد یوں کو گالیاں دینے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مغلظات بکنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔اور یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور ختم نبوت کے نام پر ہو رہا ہے۔اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم ختم نبوت کا مقام دنیا کو بتارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے۔بہر حال یہ تو اُن کا فعل ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ احمدی کا کام یہ ہے کہ ختم نبوت کی حقیقت کو دنیا کو بتائے اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دنیا میں پہنچائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔دو ہفتے پہلے کے 21 ستمبر کے خطبہ میں ، میں نے وکلاء کے بارے میں بھی ذکر کیا تھا کہ دنیا کے مسلمان وکلا ء ا کٹھے ہوں لیکن مسلمان تو پتہ نہیں اکٹھے ہوتے ہیں کہ نہیں ، ہمارے احمدی وکلاء نے اس بارہ میں پاکستان میں بھی کچھ کام شروع کیا ہے کہ مذہبی جذبات کا خیال اور آزادی رائے کی حدود کے بارے میں کیا کیا جاسکتا ہے، کس حد تک اُن کو محدود کیا جا سکتا ہے۔تو بہر حال انہوں نے اس بارے میں کچھ باتیں اکٹھی کی ہیں، کچھ پوائنٹس بنائے ہیں۔اور مختلف ملکوں کی عدالتوں کے جو فیصلے ہیں اور جو ان کے قانون ہیں ، اسی طرح جو بین الاقوامی قانون ہے، اُس کو بھی سامنے رکھ کر کچھ سوال اُٹھائے ہیں، وہ یہاں بھی بھجوائے تھے جو میں نے مختلف ملکوں میں احمدی وکلاء کو بھجوائے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں ہمارے احمدی وکیل جنہوں نے پہلے یہ توجہ دلائی تھی، انہوں نے ہی بتایا کہ دوسرے مسلمان وکلاء کے ساتھ وہاں بیٹھے ہوئے تھے تو اُن سب وکلاء نے پاکستان میں انہیں یہ کہا کہ اگر یہ کام منظم طور پر کوئی کر سکتا ہے تو جماعت احمد یہ کر سکتی ہے۔اس لئے تم لوگ اس سوال کو دنیا میں اُٹھاؤ۔بہر حال یہ میں نے دنیا کے مختلف احمدی وکلاء کو بھجوایا ہے کہ اس پر غور کریں اور بتائیں کہ اس میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔اس بارے میں ان کو چاہئے کہ جلد تر غور کریں اور جو بھی رائے بنے وہ مجھے بھجوائیں تا کہ پھر دنیا کے مختلف وکلاء کی جو رائے آئیں، اُن کا آپس میں