خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 610

خطبات مسرور جلد دہم 610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012 ء پس یہ مقابلہ یہ کر رہا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کا۔پھر یہی گاڈ فرے آگے لکھتے ہے کہ : ” خلفائے اسلام کی تمام تر تاریخ میں انکوزیشن (Inquisition) جیسی بدنام چیز سے نصف سے بھی کم بد نام چیز ہمیں نہیں ملتی۔کوئی ایک واقعہ بھی کسی کو مذہبی اختلاف کی بنا پر جلا دینے یا کسی کو محض اس وجہ سے موت کی سزا دینے کا نہیں ہوا کہ مذہب اسلام کو قبول کیوں نہیں کرتا ؟“ (An Apology for The Life And Character of The Celbrated Prophet of Arabia, Called Mohamed by Godfrey Higgins, page:52, London 1829) یہ اُس تعلیم کا اثر تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دی تھی۔پھر ہسٹری آف دی سیراسان ایمپائر (History of the Saracen Empire) میں ایڈورڈ گلین (Edward Gibbon) لکھتے ہیں کہ : ''آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کی تبلیغ کے بجائے اُس کا دوام ( یعنی ہمیشہ قائم رہنا ) ہماری حیرت کا موجب ہے۔حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مکہ اور مدینہ میں جو خالص اور مکمل نقش جمایا وہ بارہ صدیوں کے انقلاب کے بعد بھی قرآن کے انڈین، افریقی اور ترک نو معتقدوں نے ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔مریدان محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے مذہب اور عقیدت کو ایک انسان کے تصور سے باندھنے کی آزمائش اور وسوسے کے مقابل پر ڈٹے رہے۔اسلام کا سادہ اور نا قابل تبدیل اقرار یہ ہے کہ میں ایک خدا اور خدا کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لاتا ہوں۔یعنی یہ ہے کہ لا الہ الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله ” خدا کی یہ ذہنی تصویر بگڑ کر مسلمانوں میں کوئی قابلِ دید بت نہیں بنی ( یعنی یہ تصویر تھی خدا تعالیٰ کی جو مسلمانوں میں بت نہیں بنی )۔پیغمبر اسلام کے اعزازات نے انسانی صفت کے معیار کی حدود سے تجاوز نہیں کیا اور ان کے زندہ فرمودات نے ان کے پیروکاروں کے شکر اور جذ بہ احسان کو عقل اور مذہب کی حدود کے اندر رکھا ہوا ہے۔“ (History of the Sarasen Empire by Edward Gibbon, Alex Murray and Son, London, 1870, page 54) اور وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس کے مقابلے میں عیسائیوں نے بندے کو خدا بنالیا۔اللہ کرے کہ دنیا اس عظیم ترین انسان کے مقام کو سمجھتے ہوئے بجائے لاتعلق رہنے یا مخالفت اور استہزاء کرنے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب