خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 612 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 612

خطبات مسر در جلد دہم 612 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء پنج (Exchange) بھی ہو اور پھر جو رائے قائم ہو اس کے مطابق اگر کوئی عملی کا رروائی کرنی ہو تو کی جاسکے۔اللہ تعالیٰ ان سب احمدی وکلاء کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ یہ کام جلد کرسکیں۔اسی طرح احمدی سیاستدانوں کو جو مختلف ممالک میں ہیں یا سیاستدانوں کے جو قریب ہیں ، اُن کو بھی اس معاملے کو احسن رنگ میں کسی فورم پر رکھنا چاہئے کہ آزادی رائے کی کوئی حدود مقرر ہونی چاہئیں ورنہ دنیا پہلے سے بھی زیادہ فساد میں مبتلا ہو جائے گی۔اسی طرح میں اس حوالے سے ایک دعا کی تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں اور کرتا بھی رہتا ہوں کہ مسلم امہ کے لئے آجکل بہت دعا کریں۔مسلمان سربراہوں کو اللہ تعالیٰ عقل دے کہ وہ اپنے شہریوں کے خون سے نہ کھیلیں۔شہریوں کو عقل دے کہ غلط لیڈروں کا آلہ کار بن کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ ماریں۔مسلمان حکومتوں کو عقل دے کہ وہ غیروں کا آلہ کار بن کر ایک دوسرے پر حملے نہ کریں۔آجکل پھر حملے ہور ہے ہیں ترکی اور شام کی آپس میں ٹھنی ہوئی ہے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑانا اور خود ہر قسم کا فائدہ اُٹھانا، جو طاقتیں مسلمانوں کے خلاف ہیں اُن کا یہی کام ہے اور وہ اس پر آجکل عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ ایجنڈا انہوں نے سب سے پہلے رکھا ہوا ہے۔اس چیز کو مسلمان نہیں سمجھ رہے۔اللہ تعالیٰ مسلم امہ کو اپنی حفاظت میں رکھے اور ان لوگوں کو عقل دے کہ یہ اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنی ذمہ واریوں کو نبھانے والے ہوں۔جمعہ کی نماز کے بعد میں کچھ جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ان میں سے پہلا جنازہ تو مکرم خواجہ ظہور احمد صاحب ابن خواجہ منظور احمد صاحب سرگودھا کا ہے۔یہ کوٹ مومن کے رہنے والے تھے۔ان کے پڑ دادا حاجی امیر دین صاحب کے زمانے میں ان کے خاندان میں احمدیت آئی۔انہیں کل رات شہید کر دیا گیا ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہید مرحوم کا خاندان تجارت سے منسلک رہا۔پہلے کافی لمبا عرصہ کوٹ مومن میں بھی رہے تھے، پھر یہ سرگودھا منتقل ہو گئے اور تاجر لوگ تھے۔کل رات کو جیسا کہ میں نے کہا ، ان کو شہید کیا گیا ہے۔سوا نو بجے کے قریب یہ اپنے گھر سے سائیکل پر باہر کسی کام سے نکلے تو وہاں باہرگلی میں پہلے ہی موجود دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر سوار کھڑے تھے۔انہوں نے پستول سے ان پر فائر کیا جو آپ کے دائیں کان کے نیچے گردن پر لگا اور حملہ آور فرار ہو گئے۔کسی راہ گیر نے دیکھا تو ریسکیو والوں کو فون کیا۔اس پر آپ کو ہسپتال لے جایا جار ہا تھا کہ راستے میں وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔مرحوم کو مذہبی مخالفت کا لمبے عرصے