خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 609 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 609

خطبات مسرور جلد دہم 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5اکتوبر 2012ء کہہ رہی ہوں اُن کے متعلق بہت لوگوں کو شاید پہلے سے علم ہو گا لیکن میں جب بھی ان باتوں کو پڑھتی ہوں تو مجھے اس عربی استاد کی تعظیم کیلئے ایک نیا احساس پیدا ہوتا ہے اور اُس کی تعریف کا ایک نیارنگ نظر آتا ہے“۔(The Life and Teachings of Muhammad by Anni Besant (Lecture 1) Page 2, Theosophical Publishing House Chennai, India 1932) پھر Ruth Cranston ( روتھ کرینسٹین World Faith (ورلڈ فیتھ ) میں لکھتی ہیں کہ : محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ہر جنگ جو انہوں نے لڑی، مدافعانہ تھی۔وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اور ایسے اسلحے اور طریق سے لڑے جو اُس زمانے کا رواج تھا۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے (1949 ء میں یہ کتاب چھپی تھی ) جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا ہو، کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیا ہو۔عرب کے نبی کے ہاتھوں ساتویں صدی کے تاریکی کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہوں ، ہونے والی ان ہلاکتوں کا آج کی روشن بیسویں صدی کی ہلاکتوں سے مقابلہ کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔اس بیان کی تو حاجت ہی نہیں جو قتل انگوزیشن (Inquisition) اور صلیبی جنگوں کے زمانے میں ہوئے جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ ان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں پھر رہے تھے۔(World Faith by Ruth Cranston, Haper and Row Publishers, New York, 1949, page 155) پھر Godfrey Higgins ( گاڈ فرے ہیگنز ) لکھتے ہیں کہ : اس بات سے زیادہ عام طور پر کوئی بات سنے میں نہیں آتی کہ عیسائی پادری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کو اُس کے تعصب اور غیر رواداری کی وجہ سے گالیاں دیتے ہیں، عجیب یقین دہانی اور منافقت ہے یہ۔کون تھا جس نے سپین سے ان مسلمانوں کو جو عیسائی ہو چکے تھے، بھگایا تھا کیونکہ وہ بچے عیسائی نہ تھے؟ اور کون تھا جس نے میکسیکو اور پیرو میں لاکھوں لوگوں کو تہ تیغ کر دیا تھا اور اُن کو غلام بنا لیا تھا کیونکہ وہ عیسائی نہ تھے؟ اور کیا ہی عمدہ اور مختلف نمونہ تھا جو مسلمانوں نے یونان میں دکھایا۔صدیوں تک عیسائیوں کو اُن کے مذہب، اُن کے پادریوں، لاٹ پادریوں اور راہبوں اور اُن کے گرجا گھروں کو اپنی جاگیر پر پر امن طور سے رہنے دیا۔“ (An Apology for The Life And Character of The Celebrated Prophet of Arabia, Called Mohamed by Godfrey Higgins, page:51, London 1829)