خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 603
خطبات مسر در جلد دہم 603 خطبه جمعه فرموده مورخه 5 اکتوبر 2012ء جو کہ سالہا سال سے آپ کے منصوبوں میں روکیں ڈالتے اور آپ کی حاکمیت میں مزاحم ہوتے رہے، ان سے درگزر کرنا بھی ایک روشن مثال ہے۔اسی طرح وہ نرمی جو آپ نے ان قبائل سے برتی جو آپ کے سامنے سرنگوں تھے۔اور قبل ازیں جو فتوحات میں بھی شدید مخالف رہے تھے، ان سے بھی نرمی کا سلوک فرمایا۔“ (The Life of Mahomet by by William Muir, London: Smith, Elder and Co۔15 Waterloo Place 1878 pp۔525-526) پھر یہی ولیم میور لکھتا ہے کہ یہ محمد کی سچائی کے لئے ایک تائیدی نشان تھا ( کئی جگہ پر مخالفت میں بھی، اور قرآن کے بارے میں بھی لکھتا ہے، لیکن یہاں لکھ رہا ہے ) کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سچائی کے لئے ایک تائیدی نشان تھا کہ جو بھی آپ پر اول اول ایمان لائے وہ اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔بلکہ آپ کے قریبی دوست اور گھر کے افراد بھی ، جو کہ آپ کی ذاتی زندگی سے اچھی طرح واقف تھے آپ کے کردار میں وہ خامیاں نہ دیکھ سکے جو عام طور پر ایک منافق دھوکہ باز کے گھر یلو تعلق اور باہر کے رویہ میں ہوتی ہیں۔“ (The Life of Mahomet by by William Muir, London: Smith, Elder and Co۔15 Waterloo Place 1878 pp۔60) Sir Thomas Carlyle آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّی ہونے کے متعلق لکھتے ہیں کہ : ’ ایک اور بات ہمیں ہر گز بھولنی نہیں چاہئے کہ اُسے کسی مدرسہ کی تعلیم میسر نہ تھی۔اس چیز کو جسے ہم سکول لرنگ (School Learning) کہتے ہیں، ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔لکھنے کا فن تو عرب میں بالکل نیا تھا۔یہ رائے بالکل سچی معلوم ہوتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کبھی خود نہ لکھ سکا۔اس کی تمام تر تعلیم صحراء کی بودو باش اور اس کے تجربات کے گرد گھومتی ہے۔اس لامحدود کائنات، اپنے تاریک علاقہ اور اپنی انہی مادی آنکھوں اور خیالات سے وہ کیا کچھ حاصل کر سکتے تھے؟ مزید حیرت ہوتی ہے جب دیکھا جائے کہ کتابیں بھی میسر نہ تھیں۔عرب کے تاریک بیابان میں سنی سنائی باتوں اور اپنے ذاتی مشاہدات کے علاوہ وہ کچھ بھی علم نہ رکھتے تھے۔وہ حکمت کی باتیں جو آپ سے پہلے موجود تھیں یا عرب کے علاوہ دوسرے علاقہ میں موجود تھیں، ان تک رسائی نہ ہونے کے باعث وہ آپ کے لئے نہ ہونے کے برابر تھیں۔ایسے حکام اور علماء میں سے کسی نے اس عظیم انسان سے براہ راست مکالمہ نہیں کیا۔وہ اس بیابان میں تنِ تنہا تھے اور یونہی قدرت اور اپنی سوچوں کے محور میں پروان چڑھا۔“ (The Hero As Prophet Mahomet: Islam by Thomas Carlyle, Idarah-i- Adabiyat-i- Delli India 2009 page: 12-13)