خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد دہم 604 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء پھر آپ کی شادی کے بارے میں اور آپ کے گھریلو تعلقات کے بارہ میں لکھتا ہے کہ وہ کیسے خدیجہ کا ساتھی بنا؟ کیسے ایک امیر بیوہ کے کاروباری امور کا مہتم بنا اور سفر کر کے شام کے میلوں میں شرکت کی؟ اُس نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا؟ ہر ایک کو بخوبی علم ہے کہ اُس نے یہ انتہائی وفاداری اور مہارت کے ساتھ کیا۔خدیجہ ( رضی اللہ عنہا) کے دل میں اُن کا احترام اور ان کے لئے شکر کے جذبات کیونکر پیدا ہوئے؟ ان دونوں کی شادی کی داستان، جیسا کہ عرب کے مصنفین نے ذکر کیا ہے، بڑی دلکش اور قابل فہم ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عمر 25 سال تھی اور خدیجہ کی عمر 40 سال تھی۔پھر لکھتا ہے کہ ” معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس محسنہ کے ساتھ انتہائی پیار بھری، پرسکون اور بھر پور زندگی بسر کی۔وہ خدیجہ سے حقیقی پیار کرتے تھے اور صرف اُسی کے تھے۔اس کو جھوٹا نبی کہنے میں یہ حقیقت روک ہے کہ آپ نے زندگی کا یہ دور اس انداز سے گزارا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔یہ دور انتہائی سادہ اور پرسکون تھا یہاں تک کہ آپ کی جوانی کے دن گزر گئے۔“ (The Hero As Prophet Mahomet: Islam by Thomas Carlyle, Idarah-i- Adabiyat-i- Delli India 2009 page:14) پھر Thomas Carlyle ہی لکھتے ہیں کہ : ”ہم لوگوں یعنی عیسائیوں میں جو یہ بات مشہور ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک پرفن اور فطرتی شخص اور جھوٹے دعویدار نبوت تھے اور ان کا مذہب دیوانگی اور خام خیالی کا ایک تو وہ ہے، اب یہ سب باتیں لوگوں کے نزدیک غلط ٹھہرتی چلی جاتی ہیں“۔کہتا ہے ” جو جھوٹ باتیں متعصب عیسائیوں نے اس انسان یعنی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی نسبت بنائی تھیں اب وہ الزام قطعاً ہماری روسیاہی کا باعث ہے اور جو باتیں اس انسان ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی زبان سے نکالی تھیں، بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ آدمیوں کے لئے بمنزلہ ہدایت کے قائم ہیں۔( جب یہ انیسویں صدی میں تھا، اُس وقت کی باتیں ہیں ) اس وقت جتنے آدمی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتقادر کھتے ہیں اس سے بڑھ کر اور کسی کے کلام پر اس زمانے کے لوگ یقین نہیں رکھتے۔میرے نزدیک اس خیال سے بدتر اور ناخدا پرستی کا کوئی دوسرا خیال نہیں ہے کہ ایک جھوٹے آدمی نے یہ مذہب پھیلایا۔( یعنی یہ بالکل غلط چیز ہے)۔(The Hero As Prophet Mahomet: Islam by Thomas Adabiyat-i- Delli India 2009 page:3) Idarah-i-