خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 602
خطبات مسر در جلد دہم 602 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء اور ان کے باعث آپ اپنے ماحول میں ہر شخص کو اپنا گرویدہ کر لیتے۔انکار کرنا آپ کو نا پسند تھا۔اگر کسی سوالی کی فریاد پوری نہ کر پاتے تو خاموش رہنے کو ترجیح دیتے۔کبھی یہ نہیں سنا کہ آپ نے کسی کی دعوت رڈ کی ہو خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپ نے کسی کا پیش کیا ہوا تحفہ رد کر دیا ہو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔آپ کی ایک نرالی خوبی یہ تھی کہ آپ کی محفل میں موجود ہر شخص کو یہ خیال ہوتا کہ وہی اہم ترین مہمان ہے۔اگر آپ کسی کو اپنی کامیابی پر خوش پاتے تو گرمجوشی سے اس سے مصافحہ کرتے اور گلے لگاتے اور محروموں اور تکلیف میں گھرے افراد سے بڑی نرمی سے ہمدردی کا اظہار کرتے۔بچوں سے بہت شفقت سے پیش آتے اور راہ کھیلتے بچوں کو سلام کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے۔وہ قحط کے ایام میں بھی دوسروں کو اپنے کھانے میں شریک کرتے اور ہر ایک کی آسانی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہتے۔ایک نرم اور مہربان طبیعت آپ کے تمام خواص میں نمایاں نظر آتی تھی۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک وفادار دوست تھا۔اس نے ابوبکر سے بھائی سے بڑھ کر محبت کی علی سے پدرانہ شفقت کی۔زید، جو آزاد کردہ غلام تھا، کو اس شفیق نبی سے اس قدر لگاؤ تھا کہ اس نے اپنے والد کے ساتھ جانے کی بجائے مکہ میں رہنے کو ترجیح دی۔اپنے نگران کا دامن پکڑتے ہوئے اس نے کہا، ہمیں آپ کو نہیں چھوڑوں گا، آپ ہی میرے ماں اور باپ ہیں۔دوستی کا یہ تعلق زید کی وفات تک رہا اور پھر زید کے بیٹے اسامہ سے بھی اس کے والد کی وجہ سے آپ نے ہمیشہ بہت مشفقانہ سلوک کیا۔عثمان اور عمر بھی آپ سے ایک خاص تعلق رکھتے تھے۔آپ نے حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان کے وقت اپنے محصور داماد کے دفاع کے لئے جان تک دینے کا جو عہد کیا وہ اسی سچی دوستی کی ایک مثال ہے۔دیگر بہت سے مواقع ہیں جو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی غیر متزلزل محبت کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔کسی بھی موقع پر یہ محبت بے محل نہ تھی، بلکہ ہر واقعہ اسی گرمجوش محبت کا آئینہ دار ہے۔6 پھر لکھتا ہے کہ اپنی طاقت کے عروج پر بھی آپ منصف اور معتدل رہے۔آپ اپنے اُن دشمنوں سے نرمی میں ذرہ بھی کمی نہ کرتے جو آپ کے دعاوی کو بخوشی قبول کر لیتے۔مکہ والوں کی طویل اور سرکش ایذارسانیاں اس بات پر منتج ہونی چاہئے تھیں کہ فاتح مکہ اپنے غیظ وغضب میں آگ اور خون کی ہولی کھیلتا۔لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے چند مجرموں کے علاوہ عام معافی کا اعلان کر دیا اور ماضی کی تمام تلخ یادوں کو یکسر بھلا دیا۔ان کے تمام استہزاء، گستاخیوں اور ظلم و ستم کے باوجود آپ نے اپنے سخت ترین مخالفین سے بھی احسان کا سلوک کیا۔مدینہ میں عبد اللہ اور دیگر منحرف ساتھی (یعنی جو منافقین تھے