خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 594
خطبات مسرور جلد دہم 594 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء آپ کی روح میں وہ صدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے 66 ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 24، ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ مومن کا کام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو جب پڑھے، آپ کے اسوۂ حسنہ کو جب دیکھے تو جہاں اس پر عمل کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے کہ اس محسن اعظم نے ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کر کے دکھا کر اور ہمیں اس کے مطابق عمل کرنے کا کہہ کر خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر دی۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا دیئے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری کا احساس مومنین میں پیدا کیا جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے ہوئے ہم دنیا کو بھی اس تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے آگاہ کریں۔آپ کے حسن و احسان سے دنیا کو آگاہ کریں۔جب بھی غیروں کے سامنے آپ کی سیرت کے پہلو آئے تو وہ لوگ جو ذرا بھی دل میں انصاف کی رمق رکھتے تھے ، وہ باوجود اختلافات کے آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔آج کل اسلام کے مخالفین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا آپ کی لائی ہوئی تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ لوگ یا تو انصاف سے خالی دل لئے ہوئے ہیں یا آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کو جانتے ہی نہیں اور اس کے لئے کوشش کرنی بھی نہیں چاہتے۔پس دنیا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے آگاہی دینا بھی ہمارا کام ہے۔اس کے لئے ہر قسم کا ذریعہ ہمیں استعمال کرنا چاہئے۔اس کے بارے میں پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں۔بعض لوگوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے یا دنیا میں ڈوب کر ایسے بن جاتے ہیں کہ اُن پر دنیا داروں کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔دنیا دار اگر کوئی بات کہہ دے تو ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں یا اُن پر اپنے لوگوں کی باتوں کا اثر زیادہ ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ایک بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک مسلمان سے سنیں۔اگر اُن کے اپنے لوگ کہیں تو بعض دفعہ اُس پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے اُن کے اپنے لوگوں کے مشہور لوگوں کے جو کتابیں لکھنے والے ہیں، سکالرز ہیں، رائٹرز ہیں، اُن کے تاثرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں ایسے لوگوں تک پہنچانے چاہئیں۔