خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد دہم 593 40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 اکتوبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وراحمد فرمودہ مورخہ 5 را کتوبر 2012ء بمطابق 5 را خاء 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ ( یعنی جو واقعات و حالات آپ کو پیش آئے) کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آ کر کیا کیا ؟ تو انسان وجد میں آکر اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ کہہ اُٹھتا ہے“۔فرمایا ”میں سچ سچ کہتا ہوں، یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے۔قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا کیا۔ورنہ کیا بات تھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے مخصوصاً فر مایا گیا إنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:57)۔یعنی اللہ تعالیٰ اور اُس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم بھی درود و سلام بھیجو نبی پر۔فرمایا کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو محد کہلا یا صلی اللہ علیہ وسلم۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 421،ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: ” اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے ( یعنی حد لگانے کے لئے ) کوئی لفظ خاص نہ فر ما یا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے۔یعنی آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔( ہر قسم کی حدوں سے بال تھی۔) '' اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔