خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 581 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 581

خطبات مسر در جلد دہم 581 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء جماعت کے حوالے سے پہلی دفعہ وہاں کے نیشنل ٹیلیویژن پر کوئی خبر نشر ہوئی ہے۔وہاں کی جماعت بھی اس لحاظ سے خوش تھی کہ خطبہ کے حوالے سے بھی اور میرے انٹرویو کے حوالے سے بھی وہاں ہمارا تعارف ہو گیا۔خطبہ کے انگریزی مترجم کے یہ الفاظ کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔یہ فقرہ بھی انہوں نے اپنی خبروں میں سنایا جو ریکارڈ کیا ہوا تھا۔لیکن اس میں یہ شرافت تھی جو بعض دفعہ غیر مسلم نمائندوں میں نہیں ہوتی یا وہ نہیں دکھاتے یا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں ڈالا کہ اس فقرہ کا جو بغیر سیاق وسباق کے منفی رد عمل ہوسکتا تھا، اُس کو زائل کرنے کے لئے مجھے ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے دکھایا اور میرے الفاظ میں یہ بھی دکھا دیا۔وہاں اس نے میرے الفاظ دو ہرا دیئے جو میں خود بھی بول رہا تھا کہ ہم شدت پسند مظاہرے اور توڑ پھوڑ پسند نہیں کرتے اور تم کبھی کسی احمدی کو نہیں دیکھو گے کہ اس قسم کے فساد اور مفسدانہ رد عمل کا حصہ ہوں۔خبریں پڑھنے والے نے میرا یہ جواب دکھا کر پھر آگے تبصرہ کیا کہ یہ جماعت مسلمانوں کی اقلیتی جماعت ہے اور ان کے ساتھ بھی مسلمانوں کی طرف سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔بہر حال دیکھتے ہیں کہ یہ پیغام جو ان کے خلیفہ نے دیا ہے، اس کی آواز اور پیغام کا احمدی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں؟ اس نے وہاں دوسرے مسلمانوں کی فوٹیج بھی دکھائی جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے ، مولویوں کو جلوس نکالتے ہوئے نعرے لگاتے ہوئے دکھایا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا بہر حال اس ذریعہ سے اسلام کا حقیقی پیغام نیوزی لینڈ کے ملک میں بھی سیٹیلائٹ کے ذریعہ ارد گرد کے ملکوں میں بھی اور اُن کی ویب سائٹ کے ذریعہ سے دنیا کے بہت سے حصوں میں پہنچ گیا۔اگر ہم کوشش بھی کرتے تو احمدیت کا تعارف اور اسلام کا حقیقی پیغام اس طرح نہ پہنچتا۔اب نیوزی لینڈ جماعت کو چاہئے کہ اس حوالے سے اسلام اور احمدیت کا تعارف بھرا پروگرام ملک کے ہر حصہ میں پہنچانے کی کوشش کریں۔اسی طرح نیوزی لینڈ کے اردگرد کے جو ممالک ہیں ، اُن میں بھی یہ سنا گیا ہو گا ، انہیں بھی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے ان ممالک میں اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچا کے لئے بھر پور پروگرام بنا ئیں۔نیوز نائٹ جو یہاں کا چینل ہے، اُس کا نمائندہ یہ کہنے لگا کہ میں نے یہ فلم دیکھی ہے اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں جس پر اتنا زیادہ شور مچایا جائے اور مسلمان اس طرح رد عمل دکھا ئیں۔اور تم نے بھی بڑی تفصیل سے اس پر خطبہ دے دیا ہے اور بعض جگہ بڑے سخت الفاظ میں اس کورڈ کیا ہے۔یہ تو ہلکا سا مذاق تھا۔انا للہ۔یہ تو ان لوگوں کے اخلاقی معیار کی حالت ہے۔میں نے اُسے کہا کہ پتہ نہیں تم نے کس طرح