خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 582

خطبات مسرور جلد دہم 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء دیکھا اور تمہارا کیا معیار ہے؟ تم اُس مقام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں کی نظر میں ہے، اُن کے دل میں ہے، اُس محبت کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسلمان کے دل میں ہے، تم نہیں سمجھ سکتے۔میں نے اُسے بتایا کہ میں نے فلم تو نہیں دیکھی لیکن ایک دو باتیں جس دیکھنے والے نے مجھے بتائی ہیں، وہ نا قابل برداشت ہیں اور تم کہتے ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔یہ باتیں سن کر تو میں کبھی فلم دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرسکتا۔اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، ان کو سن کر ہی خون کھولتا ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تمہارے باپ کو اگر کوئی گالی دے، برا بھلا کہے، بیہودہ باتیں کہے تو اُس کے متعلق تمہارا رد عمل کیا ہوگا ؟ تم دکھاؤ گے رد عمل؟ یہ بتاؤ گے کہ ٹھیک ہے کہ نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو ایک مسلمان کی نظر میں اس سے بہت بلند ہے، اس جگہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔دوبارہ پھر وہ فلم کے بارے میں بات کرنے لگا۔تو پھر میں نے اُسے کہا کہ میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تمہارے باپ کے خلاف اگر کوئی بات کرے تو سنو گے؟ ہاں یا نہ میں جواب تو اُس نے نہیں دیا لیکن اس بات پر بہر حال چپ کر گیا۔اس نمائندے نے تو شاید اس بارے میں میڈیا میں خبر نہیں دی۔لیکن میرے اس فقرہ کو کہ تمہارے باپ کو کوئی گالی دے تو رد عمل دکھاؤ گے کہ نہیں؟ دوسرے میڈیا نے بہت ساری جگہوں پر اٹھایا۔ویب سائٹ پر بھی ڈالا ہے۔بہر حال انٹرنیٹ پر اور بعض اخباروں کی ویب سائٹ پر مختلف تبصرہ کرنے والوں نے اور ایک پاکستانی انگلش اخبار نے خطبہ کے حوالے سے، پریس میٹنگ کے حوالے سے جماعت احمدیہ مسلمہ کے موقف کو دنیا پر خوب ظاہر کیا کیونکہ اکثر نے اس بات پر بڑے تعریفی کلمات لکھے تھے لیکن انٹرنیٹ پر بعض تبصرے ایسے بھی تھے کہ مرزا مسرور احمد نے کونسی ایسی خاص بات کر دی ہے، بعضوں نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے جو بات کہی ہے ہر عقلمند انسان یہی بات کرتا ہے۔لیکن ایک احمدی نے مجھے لکھا کہ میں نے سارے تبصرے سنے، ساری خبریں دیکھیں ، ساروں کے بیانات دیکھے، علماء کے بھی اور ان کے لیڈروں کے بھی ،ساروں کے بیانات دیکھے، بہت باتیں کی ہیں لیکن کسی نے یہ توجہ نہیں دلائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔تو یہ توجہ بھی صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے ہی دلائی گئی ہے کہ اس کا ایک رد عمل یہ بھی ہونا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ آپ پر درود بھیجا جائے۔بعض نے یہ بھی لکھا کہ ان لوگوں نے ہی صحیح اسلامی رد عمل دکھایا ہے جن کو تم غیر مسلم کہتے ہو۔بہر حال اس کی خوب تشہیر ہوئی ہے۔اس طرح دنیا کے سامنے ایک حقیقی مسلمان کا حقیقی رد عمل بھی آ گیا۔اسلام کی حقیقی تعلیم جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے، اُس کا بھی دنیا کو پتہ چل گیا۔دنیا کو اور عالم اسلام کو یہ پیغام بھی مل گیا کہ ایک حقیقی مسلمان کا صحیح رد عمل کیا ہوتا ہے