خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 580
خطبات مسر در جلد دہم 580 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میڈیا کے لوگ او پر کھڑے تھے، کیمرے تصویریں بھی لے رہے تھے، ریکارڈنگ بھی کر رہے تھے ،ترجمہ سن بھی رہے تھے۔پیغام تو ان کومل گیا ہے پھر اب یہ مزید اور کیا چاہتے ہیں؟ لیکن بہر حال کیونکہ انہوں نے اُن کو یہ کہہ کر اندر کمرے میں بٹھا دیا تھا، کہ میں آؤں گا تو اس بات پر میں نے اُنہیں کہا کہ ٹھیک ہے، دیکھ لیتے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کی خاطر اور باتیں بھی کرنی پڑیں تو ہم کریں گے اور آپ کے مقام کے حوالے سے نیز اسلام کی تعلیم کے حوالے سے اگر اس انٹرویو کی وجہ سے کوئی بہتر پیغام دنیا کو پہنچ سکتا ہے تو اچھی بات ہے، پھر مل لیتا ہوں۔جب میں کمرے میں گیا تو علاوہ اخباری نمائندوں کے ٹی وی چینلز کے نمائندے بھی تھے جن میں نیوز نائٹ جو بی بی سی کے زیرِ انتظام ہے، اسی طرح بی بی سی کا نمائندہ ، نیوزی لینڈ نیشنل ٹیلیویژن کا نمائندہ ، فرانس کے ٹیلیویژن کا نمائندہ اور بہت سارے دوسرے نمائندے شامل تھے۔نیوزی لینڈ کا نمائندہ جو میرے دائیں طرف بیٹھا تھا، اُس کو پہلے موقع مل گیا۔اُس نے یہی سوال کیا کہ آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔میں نے اُس کو بتایا کہ پیغام تو تم سُن چکے ہو، وہ خطبہ کی ریکارڈنگ سن رہے تھے اور ترجمہ بھی سن رہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں میں بیان کر چکا ہوں کہ آپ کا بہت بلند مقام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے۔مسلمانوں کا رد عمل جو غم وغصہ کا ہے وہ ایک لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ پیدا ہونا چاہئے تھا، گو بعض جگہ اس کا اظہار غلط طور پر ہو رہا ہے۔ہمارے دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے دنیا دار کی نظر اُس تک نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے دنیا دار کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ کس حد تک اور کس طرح ہمیں ان باتوں سے صدمہ پہنچا ہے۔ایسی حرکتیں دنیا کا امن برباد کرتی ہیں۔نیوزی لینڈ کے ایک نمائندہ کا اس بات پر زور تھا کہ تم نے بڑے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے یہ تو بڑے سخت الفاظ ہیں۔تم بھی اُن لوگوں میں شامل ہو گئے ہو۔الفاظ تو یہ نہیں تھے لیکن ٹون (Tone) سے یہی مطلب لگ رہا تھا۔کیونکہ وہ بار بار اس سوال کو دو ہرارہا تھا اُس کو میں نے یہ کہا کہ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے بارے میں ایسی باتیں کریں ، اُن کا استہزاء کرنے کی کوشش کریں اور کرتے چلے جائیں اور کسی طرح سمجھانے سے باز نہ آئیں اور تمسخر اور ہنسی کا نشانہ بناتے رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی بھی ایک تقدیر ہے، وہ چلتی ہے اور عذاب بھی آسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پکڑتا بھی ہے۔خیر وہ چپ کر گیا، لیکن لگتا تھا کہ اس بات سے کچھ ڈرا بھی ہوا ہے، کچھ خوفزدہ بھی لگ رہا تھا۔اُس نے نیوزی لینڈ نیشنل ٹیلیویژن چینل کو جو اپنی خبریں بھیجی ہیں ان خبروں میں وہ وہاں نشر ہوئی اور اس طرح