خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد دہم 579 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012 ء بمطابق 28 رتبوک 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کو جب میں یہاں مسجد میں جمعہ پڑھانے آیا تھا تو کار سے اترتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک بڑی تعداد اخباری نمائندوں کی سامنے کھڑی تھی۔بہر حال میرے پوچھنے پر امیر صاحب نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں امریکہ میں جو انتہائی دل آزار فلم بنائی گئی ہے اُس پر مسلمانوں میں جو رد عمل ہو رہا ہے اس سلسلہ میں یہ لوگ دیکھنے آئے ہیں کہ احمدیوں کا رد عمل کیا ہے۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔انہیں کہیں کہ میں نے اسی موضوع پر خطبہ دینا ہے، اور وہیں جو بھی احمدیوں کا رد عمل ہوگا بیان کروں گا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کے ہی کام ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں میڈ یا کوکھینچ کر یہاں لا یا اور پھر میرے دل میں بھی ڈالا کہ اسی موضوع پر کچھ کہوں۔پہلے میرا ارادہ کچھ اور کہنے کا تھا۔لیکن ایک دن پہلے تو جہ اس طرف پھری کہ اسی موضوع پر کچھ کہنا چاہئے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں۔جس طرح وہ چاہتا ہے کرواتا ہے اور بعد کے حالات نے ثابت بھی کیا کہ اس موضوع پر کہنے میں اللہ تعالیٰ کی تائید شامل تھی۔مختصر وقت میں مختصر باتیں کی جاسکتی ہیں لیکن جو بھی کہی گئیں اُن کے خلاصے کو یا جو پیغام میں دینا چاہتا تھا اُس کو اللہ تعالیٰ نے دنیائے احمدیت کے علاوہ غیروں میں بھی کافی وسیع طور پر پہنچا دیا۔بہر حال جمعہ کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلا ہوں تو امیر صاحب نے کہا کہ میڈیا والے دو تین منٹ آپ سے براہِ راست کچھ بات کرنا چاہتے ہیں اور کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔میں نے اُن کو کہا کہ خطبہ میں ساری باتیں بیان کر چکا ہوں