خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 578
خطبات مسر در جلد دہم 578 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012 ء جس سے دو گولیاں عزیزم محمد احمد صدیقی صاحب کو لگیں جن میں سے ایک اُن کے دل پر جبکہ دوسری گولی اُن کے کو لہے پر لگی اور آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔جبکہ آپ کے بہنوئی مکرم شمس فخری صاحب کو اُن کے جسم کے پانچ مختلف حصوں پر پانچ گولیاں لگیں جن میں سے ایک اُن کے دائیں کندھے پر، ایک پیٹ میں اور باقی گولیاں ٹانگوں پر لگیں اور اس وقت آپ آغا خان ہسپتال میں داخل ہیں۔ان کی صحت یابی کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ صحت کا ملہ عاجلہ عطا فرمائے۔شہادت کے وقت شہید مرحوم کی عمر 23 سال تھی اور صرف ایک ہفتہ قبل اُن کا نکاح ہوا تھا۔شہید مرحوم نے گزشتہ سال ہی ایم بی اے امتحان پاس کیا تھا۔بہت شریف النفس ، معصوم ، اطاعت گزار اور خوش اخلاق طبیعت کے مالک تھے۔کہتے ہیں کہ تیس سال کا نوجوان نہ صرف خوبصورت شکل وصورت کا مالک تھا بلکہ خوب سیرت بھی تھا۔ہر وقت چند دعا ئیں اپنے پاس لکھ کر رکھا کرتے تھے اور انہیں پڑھتے رہتے تھے۔اُن کے بھائی نے کہا کہ ہم میں سے سب سے قابل تھا۔7 ستمبر 2012 ء کو اس نے اپنے بعض دوستوں کو موبائل پر ایس ایم ایس کیا کہ کراچی کے حالات بہت خراب ہیں، اگر میں شہید ہو جاؤں تو میرے لئے دعا کرنا۔شہید مرحوم کی والدہ نے اس تکلیف دہ واقعہ کے وقت بتایا کہ تعزیت کے لئے آنے والی غیر احمدی رشتہ دارخواتین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ نے انجام دیکھ لیا۔اس پر شہید مرحوم کی والدہ نے انہیں جوابا کہا کہ ہم نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر میسی کو مانا ہے، ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔میں جماعت کی خاطر اپنے نو (9) کے نو (9) بیٹوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔اللہ کے فضل سے شہید کے بھائی بہن سب حو صلے میں ہیں۔شہید مرحوم کے والد صاحب پہلے ہی وفات پاچکے ہیں۔شہید مرحوم نے لواحقین میں بوڑھی والدہ محترمہ کے علاوہ آٹھ بھائی اور دو بہنیں سوگوار چھوڑی ہیں۔آپ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ان سب شہداء سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور رہنے والوں کو صبر ، ہمت اور حوصلہ دے اور پاکستان کے ہر احمدی کی حفاظت فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 12 تا 18 اکتوبر 2012 جلد 19 شماره 41 صفحه 5 تا9)