خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد دہم 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء یا ایمبیسیز پر حملہ کریں گے تو یہ تو اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اس صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر خود اعتراض لگوانے کے مواقع پیدا کر دیں گے۔پس شدت پسندی اس کا جواب نہیں ہے۔اس کا جواب وہی ہے جو میں بتا آیا ہوں کہ اپنے اعمال کی اصلاح اور اُس نبی پر درود و سلام جو انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔اور دنیاوی کوششوں کے لئے مسلمان ممالک کا ایک ہونا۔مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے ووٹ کی طاقت منوانا۔بہر حال افراد جماعت جہاں جہاں بھی ہیں، اس نہج پر کام کریں اور اپنے غیر احمدی دوستوں کو بھی اس طریق پر چلانے کی کوشش کریں کہ اپنی طاقت، ووٹ کی طاقت جو ان ملکوں میں ہے وہ منواؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلوؤں کو بھی دنیا کے سامنے خوبصورت رنگ میں پیش کریں۔آج یہ لوگ آزادی اظہار کا شور مچاتے ہیں۔شور مچاتے ہیں کہ اسلام میں تو آزادی رائے اور بولنے کا اختیار ہی نہیں ہے اور مثالیں آجکل کی مسلمان دنیا کی دیتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں وہاں کے لوگوں کو ،شہریوں کو آزادی نہیں ملتی۔اگر نہیں ملتی تو اُن ملکوں کی بدقسمتی ہے کہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کر رہے۔اسلامی تعلیم کا تو اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہمیں تو تاریخ میں لوگوں کے بے دھڑک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے بلکہ ادب و احترام کو پامال کرنے اور اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبر اور حو صلے اور برداشت کے ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔گو اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجود وسخا کے واقعات میں بیان کیا جاتا ہے لیکن یہی واقعات جو ہیں ان میں بیبا کی کی حد کا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوصلہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔حضرت جبیر بن مطعم کی یہ روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔آپ چنین سے آرہے تھے کہ بدوی لوگ آپ سے لپٹ گئے۔وہ آپ سے مانگتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو بول کے ایک درخت کی طرف ہٹنے کے لئے مجبور کر دیا جس کے کانٹوں میں آپ کی چادر اٹک گئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور آپ نے فرمایا میری چادر مجھے دے دو۔اگر میرے پاس ان جنگلی درختوں کی تعداد کے برابر اونٹ ہوتے تو میں انہیں تم میں بانٹ دیتا اور پھر تم مجھے بھیل نہ پاتے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔۔(صحیح البخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى والله يعطى المؤلفة قلوبهم وغيرهم۔۔۔3148)