خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 570
خطبات مسر در جلد دہم 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء ایک وہ عیسائی پادری بھی شامل ہے جو مختلف وقتوں میں امریکہ میں اپنی سستی شہرت کیلئے قرآن وغیرہ جلانے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔اَللَّهُمَّ مَزَقُهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ وَسَحَقْهُمْ تَسْحِيْقًا۔میڈیا میں بعض نے مذمت کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے رد عمل کی بھی مذمت کی ہے۔ٹھیک ہے غلط رو عمل کی مذمت ہونی چاہئے لیکن یہ بھی دیکھیں کہ پہل کرنے والا کون ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی اکائی اور لیڈرشپ نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔دین سے تو باوجود عشق رسول کے دعوی کے یہ لوگ دُور ہٹے ہوئے ہیں۔دعوئی تو بیشک ہے لیکن دین کا کوئی علم نہیں ہے۔دنیاوی لحاظ سے بھی کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔کسی مسلمان ملک نے کسی ملک کو بھی پر زور احتجاج نہیں کیا۔اگر کیا ہے تو اتنا کمزور کہ میڈیا نے اس کی کوئی اہمیت نہیں دی۔اور اگر مسلمانوں کے احتجاج پر کوئی خبر لگائی بھی ہے تو یہ کہ ایک اعشاریہ آٹھ بلین مسلمان بچوں کی طرح رد عمل دکھا رہے ہیں۔جب کوئی سنبھالنے والا نہ ہو تو پھر ادھر اُدھر پھرنے والے ہی ہوتے ہیں۔پھر رد عمل بچوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ایک طنز بھی کردیا لیکن حقیقت بھی واضح کر دی۔اب بھی خدا کرے کہ مسلمانوں کو شرم آجائے۔یہ لوگ جن کے دین کی آنکھ تو اندھی ہے ، جن کو انبیاء کے مقام کا پتہ ہی نہیں ہے، جو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام کو بھی گرا کر خاموش رہتے ہیں، اُن کو تو مسلمانوں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جذبات کا اظہار بچوں کی طرح کا رد عمل نظر آئے گا لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ 2006ء میں بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ اس طرف توجہ کریں اور ایک ایسا ٹھوس لائحہ عمل بنائیں کہ آئندہ ایسی بیہودگی کی کسی کو جرات نہ ہو۔کاش کہ مسلمان ملک یہ سن لیں اور جو اُن تک پہنچ سکتا ہے تو ہر احمدی کو پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔چار دن کا احتجاج کر کے بیٹھ جانے سے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔پھر یہ تجویز بھی ایک جگہ سے آئی تھی، لوگ بھی مختلف تجویزیں دیتے رہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان وکلا ء جو ہیں یہ اکٹھے ہو کر پٹیشن (Petition) کریں۔کاش کہ مسلمان وکلاء جو بین الاقوامی مقام رکھتے ہیں اس بارے میں سوچیں ، اس کے امکانات پر یا ممکنات پر غور کریں کہ ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں یا کوئی اور راستہ نکالیں۔کب تک ایسی بیہودگی کو ہوتا دیکھتے رہیں گے اور اپنے ملکوں میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کر کے بیٹھ جائیں گے۔اس کا اس مغربی دنیا پر تو کوئی اثر نہیں ہوگا یا اُن بنانے والوں پر تو کوئی اثر نہیں ہوگا۔اگر ان ملکوں میں معصوموں پر حملہ کریں گے یا تھریٹ (Threat) دیں گے یا مارنے کی کوشش کریں گے