خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 572
خطبات مسرور جلد دہم 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012ء پھر ایک روایت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا اور آپ نے ایک موٹے کنارے والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ایک بدو نے اس چادر کو اتنے زور سے کھینچا کہ اس کے کناروں کے نشان آپ کی گردن پر پڑ گئے۔پھر اُس نے کہا: اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے اس مال میں سے جو اس نے آپ کو عنایت فرمایا ہے، میرے ان دو اونٹوں پر لاد دیں کیونکہ آپ مجھے نہ تو اپنے مال میں سے اور نہ ہی اپنے والد کے مال میں سے دیں گے۔پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔پھر فرمایا۔الْمَالُ مَالُ اللَّهِ وَ أَنَا عَبْدُہ کہ مال تو اللہ ہی کا ہے اور میں اُس کا بندہ ہوں۔پھر آپ نے فرمایا۔مجھے جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا بدلہ تم سے لیا جائے گا۔اُس بدو نے کہا، نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا ؟ اُس بدو نے کہا اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور میں لاد دی جائیں۔(الشفاء لقاضی عیاض جزء اول صفحه 74 الباب الثانی فی تکمیل الله تعالى۔۔۔الفصل و اما الحلم۔۔۔دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) تو یہ ہے وہ صبر و برداشت کا مقام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور جواپنوں سے نہیں دشمنوں سے بھی تھا۔یہ ہیں وہ اعلیٰ اخلاق ان میں جود و سخا بھی ہے اور صبر و برداشت بھی اور وسعت حوصلہ کا اظہار بھی ہے۔یہ اعتراض کرنے والے جاہل بغیر علم کے اُٹھتے ہیں اور اُس رحمتہ للعالمین پر اعتراض کر دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ بختی کی تھی اور فلاں تھا اور فلاں تھا۔پھر قرآن کریم پر اعتراض ہے۔یہ بھی سنا ہے کہ اس فلم میں لگایا گیا ہے۔میں نے دیکھی تو نہیں، لیکن میں نے یہ لوگوں سے سنا ہے کہ یہ قرآن کریم بھی حضرت خدیجہ کے جو چازاد بھائی تھے ، ورقہ بن نوفل، جن کے پاس حضرت خدیجہ آپ کو پہلی وحی کے بعد لے کر گئی تھیں انہوں نے لکھ کر دیا تھا۔کفار تو آپ کی زندگی میں بھی یہ اعتراض کرتے رہے کہ یہ قرآن جو تم قسطوں میں اتار رہے ہوا گر یہ اللہ کا کلام ہے تو یکدم کیوں نہیں اترا؟ لیکن یہ بیچارے بالکل ہی بے علم ہیں بلکہ تاریخ سے بھی نابلد۔بہر حال جو بنانے والے ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں لیکن دو پادری جو اُن میں شامل ہیں جو اپنے آپ کو علمی سمجھتے ہیں وہ بھی علمی لحاظ سے بالکل جاہل ہیں۔ورقہ بن نوفل نے تو یہ کہا تھا کہ کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب تجھے تیری قوم وطن سے نکالے گی اور کچھ عرصے بعد اُن کی وفات بھی ہوگئی۔(صحیح البخاری کتاب بدء الوحي باب 3 حدیث نمبر (3)