خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 569

خطبات مسر در جلد دہم 569 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012 ء یورپ میں ملینز (Millions) کی تعداد میں تو صرف ترک ہی آباد ہیں۔صرف پورے یورپ میں نہیں بلکہ یورپ کے ہر ملک میں ملینز کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔اسی طرح دوسری مسلمان قو میں یہاں آباد ہیں۔ایشیا سے مسلمان یہاں آئے ہوئے ہیں۔یو کے میں بھی آباد ہیں۔امریکہ میں بھی آباد ہیں۔کینیڈا میں آباد ہیں۔یورپ کے ہر خطے میں آباد ہیں۔اگر یہ سب فیصلہ کر لیں کہ اپنے ووٹ اُن سیاستدانوں کو دینے ہیں جو مذہبی رواداری کا اظہار کریں۔اور ان کا اظہار نہ صرف زبانی ہو بلکہ اُس کا عملی اظہار بھی ہورہا ہو اور وہ ایسے بیہودہ گوؤں کی، یا بیہودہ لغویات بکنے والوں یا فلمیں بنانے والوں کی مذمت کریں گے تو ان دنیا وی حکومتوں میں ہی ایک طبقہ کھل کر اس بیہودگی کے خلاف اظہار خیال کرنے والا مل جائے گا۔پس مسلمان اگر اپنی اہمیت کو سمجھیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔وہ ملکوں کے اندر مذہبی جذبات کے احترام کے قانون بنوا سکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی ہے کہ اس طرف توجہ نہیں ہے۔جماعت احمدیہ جو توجہ دلاتی ہے اُس کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مسلمان لیڈروں کو ، سیاستدانوں کو اور علماء کو عقل دے کہ اپنی طاقت کو مضبوط کریں۔اپنی اہمیت کو پہچانیں۔اپنی تعلیم کی طرف توجہ دیں۔یہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہودہ اعتراض کرتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں اور جنہوں نے یہ فلم بنائی ہے یا اس میں کام کیا ہے ان کے اخلاقی معیار کا اندازہ تو میڈیا میں ان کے بارے میں جو معلومات ہیں اُن سے ہی ہو سکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ کردار ایک قبطی عیسائی کا ہے جو امریکہ میں رہتا ہے، نکولا بیلے (Nakoula Basseley Nakoula) یا اس طرح کا اس کا کوئی نام ہے یا سام بسیلے (Sam) Bacile) کہلاتا ہے۔بہر حال اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی criminal background ہے۔مجرم ہے۔یہ فراڈ کی وجہ سے 2010ء میں جیل میں بھی رہ چکا ہے۔دوسرا آدمی جس نے فلم ڈائریکٹ کی ہے، یہ پورنوگرافیز موویز کا ڈائریکٹر ہے۔اس میں جواورا یکٹر شامل ہیں وہ سب پورنو گرافکس موویز کے ایکٹر ہیں۔تو یہ ان کے اخلاق کے معیار ہیں۔اور پورنوگرافیر کی جو حدود ہیں وہ تو آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ لوگ کس گند میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اعتراض اُس ہستی پر کرنے چلے ہیں جس کے اعلیٰ اخلاق اور پاکیزگی کی خدا تعالیٰ نے گواہی دی۔پس یہ غلاظت کر کے انہوں نے یقینا خدا تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دی ہے اور دیتے چلے جارہے ہیں۔اسی طرح اس فلم کے سپانسر کرنے والے بھی خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ان میں