خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد دہم 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 ستمبر 2012 ء فرمائے ہیں۔مسلمان ممالک یو این او (UNO) کا حصہ بھی ہیں۔قرآنِ کریم جو مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے ماننے والے اور اس کو پڑھنے والے بھی ہیں تو پھر کیوں ہر سطح پر اس خوبصورت تعلیم کو دنیا پر ظاہر کرنے کی مسلمان حکومتوں نے کوشش نہیں کی۔کیوں نہیں یہ کرتے ؟ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کیوں دنیا کے سامنے یہ پیش نہیں کرتے کہ مذہبی جذبات سے کھیلنا اور انبیاء اللہ کی بے حرمتی کرنا یا اُس کی کوشش کرنا یہ بھی جرم ہے اور بہت بڑا جرم اور گناہ ہے۔اور دنیا کے امن کے لئے ضروری ہے کہ اس کو بھی یو این او کے امن چارٹر کا حصہ بنایا جائے کہ کوئی نمبر ملک اپنے کسی شہری کو اجازت نہیں دے گا کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے۔آزادی خیال کے نام پر دنیا کا امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔لیکن افسوس کہ اتنے عرصہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، کبھی مسلمان ملکوں کی مشتر کہ ٹھوس کوشش نہیں ہوئی کہ تمام انبیاء، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ہر نبی کی عزت و ناموس کے لئے دنیا کو آگاہ کریں اور بین الاقوامی سطح پر اس کو تسلیم کروائیں۔گو یو این او (UNO) کے باقی فیصلوں کی طرح اس پر بھی عمل نہیں ہوگا، پہلے کونسا امن چارٹر پر عمل ہو رہا ہے لیکن کم از کم ایک چیز ریکارڈ میں تو آ جائے گی۔او آئی سی (OIC) ، آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز جو ہے ، یہ قائم تو ہے لیکن ان کے ذریعہ سے کبھی کوئی ٹھوس کوشش نہیں ہوئی جس سے دنیا میں مسلمانوں کا وقار قائم ہو۔مسلمان ملکوں کے سیاستدان اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہر کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اگر نہیں خیال تو دین کی عظمت کا خیال نہیں۔اگر ہمارے لیڈروں کی طرف سے ٹھوس کوششیں ہوتیں تو عوام الناس کا یہ غلط رد عمل بھی ظاہر نہ ہوتا جو آج مثلاً پاکستان میں ہو رہا ہے یا دوسرے ملکوں میں ہوا ہے۔اُن کو پتہ ہوتا کہ ہمارے لیڈر اس کام کے لئے مقرر ہیں اور وہ اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس قائم کرنے کے لئے اور تمام انبیاء کی عزت و ناموس قائم کرنے کے لئے دنیا کے فورم پر اس طرح اُٹھیں گے کہ اس دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ جو کہہ رہے ہیں سچ اور حق ہے۔پھر مغربی ممالک میں اور دنیا کے ہر خطے میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو رہ رہی ہے۔مذہب کے لحاظ سے اور تعداد کے لحاظ سے دنیا میں مسلمان دوسری بڑی طاقت ہیں۔اگر یہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے ہوں تو ہر لحاظ سے سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں اور اس صورت میں کبھی اسلام دشمن طاقتوں کو جرات ہی نہیں ہوگی کہ ایسی دل آزار حرکتیں کر سکیں یا اس کا خیال بھی لائیں۔بہر حال علاوہ مسلمان ممالک کے دنیا کے ہر ملک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔