خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 529
خطبات مسرور جلد دہم 529 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء بشاشت کے ساتھ فرمایا۔آئیے میاں خیر دین صاحب، آئیں کھانا کھا ئیں۔میں اس وقت کھانا کھا چکا تھا۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں کھانا کھا چکا ہوں۔فرمایا نہیں ، کھانا کھاؤ۔میں بیٹھ گیا۔کھانا چونکہ ختم تھا، لوگ کھانا کھا چکے تھے خود بھی فارغ ہو چکے تھے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بھی فارغ ہو چکے تھے ) لیکن میرے لئے حضور نے کوشش فرما کر روٹی سالن مہیا کر دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی " چھوٹی عمر کے تھے اور حضور کے ساتھ کھانے میں شامل تھے، اُن کا سالن والا برتن بھی میرے سامنے رکھ دیا۔میں نے کھانا شروع کر دیا۔ابھی چند لقمے کھائے تھے کہ میاں غلام محی الدین صاحب مرحوم جو حضرت خلیفہ اول کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے دستر خوان سے برتن سالن وغیرہ اُٹھانا شروع کر دیا اور کہتے ہیں کہ جلدی میں جو میرے آگے برتن تھا وہ بھی اُٹھا لیا۔جب حضور کی اس پر نظر پڑی تو بڑے سخت الفاظ میں میاں غلام محی الدین صاحب کو تنبیہ کی کہ وہ بیچارہ پریشان ہو گیا کہ کیوں تم نے ان کے آگے سے یہ برتن اُٹھائے۔کہتے ہیں مجھ میں بھی یہ طاقت نہیں تھی کہ میں کہوں کہ حضور کوئی بات نہیں، میرا پیٹ بھر چکا ہے، سیر ہو چکا ہوں۔کہتے ہیں کہ برتن تو اُس غریب بیچارے نے میرے سامنے رکھ دیا اور پھر میں نے بھی کھانا شروع کر دیا۔لیکن یہ بھی فرمایا کہ جب تک میں نہ کہوں ، دستر خوان نہیں اُٹھانا۔کہتے ہیں آخر میں نے چند لقمے کھائے اور کہا کہ دستر خوان اُٹھا لو۔تب وہ اُٹھایا گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 13 صفحہ 454-455 روایات حضرت میاں خیر الدین صاحب) تو یہ ایک واقعہ ہے کہ مہمان اگر کھانا کھا رہا ہے تو اُس کو آرام سے کھانے دینا چاہئے۔اگر نماز یا جلسہ کا وقت قریب ہے، کارکنوں کو بھی جلدی ہوتی ہے اور تربیتی شعبہ جو ہے وہ بھی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ جلدی جلدی اُن کو وہاں سے نکالا جائے تو کھانے میں پہلے ہی کافی وقت ملنا چاہئے۔اگر کوئی لیٹ آ بھی گیا ہے تو پھر اُس کو تسلی سے کھانا کھانے دینا چاہئے۔ہاں یہ بتادیا جائے کہ نماز میں اتنا وقت رہ گیا ہے یا جلسہ شروع ہونے میں یہ وقت رہ گیا ہے۔لیکن کسی کے پیچھے پڑ کر یہ نہ کرنا چاہیئے کہ جلدی اُٹھو، جاؤ ، ہم نے سامان سمیٹنا ہے اور پلیٹیں اُٹھالی جائیں۔اس سے مہمان نوازی کا حق ادا نہیں ہوتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی مہمان نوازی کے معیار کیا تھے؟ یہ تو ہم نے دیکھا، اپنے ماننے والوں سے کیا توقعات وابستہ تھیں جن کا ہمیں آج بھی خیال رکھنا چاہئے۔اس کا اظہار آپ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے۔فرمایا: ” میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو، بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتارہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے، مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی