خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 528 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 528

خطبات مسرور جلد دہم 528 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء مہمان ہمارے سپرد ہوئے ہیں اس لئے ان کی بھر پور مہمان نوازی بھی ہمارا فرض ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ میں شمولیت کو بھی دینی غرض ہی بیان فرمایا ہے تا کہ دین سیکھ کر ، دین حاصل کر کے یہ حقیقی مومن اور مسلمان بنے والے ہوں۔(ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 606) پس یہ مہمان جو ہیں ان کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے اور اس لئے بھی فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور سنت پر عمل کرنے کا بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہے۔اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر دبھی یہ بڑا اہم کام کیا گیا ہے کہ مہمانوں کی مہمان نوازی کرو۔پس اس لحاظ سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاموں کی سر انجام دہی کے لئے، آپ کے ہر طرح سے مددگار بننے کے لئے ہمارا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ مہمان نوازی کا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس کو بھی احسن رنگ میں بجالائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کی مہمان نوازی کے بھی ایک دو واقعات پیش کرتا ہوں۔بیشک پہلے سنے بھی ہوں لیکن ہر مرتبہ ان کو پڑھنے کے بعد یا سننے کے بعد کوئی نہ کوئی خوبصورت اور ایک نیا پہلوا بھر کے سامنے آتا ہے۔کارکنان کے لئے بعض واقعات میں سبق بھی ہوتا ہے۔بعض دفعہ وقت کی قلت کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے کام کرنے والے کارکنان کو جلدی ہوتی ہے۔خاص طور پر جب مہمان کھانا کھا رہے ہوں تو ان کے سامنے ایسا اظہار ہو جاتا ہے جو مہمان کو یا برا لگتا ہے یا اُس کے سامنے بہر حال مناسب نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جلسہ کے پروگرام شروع ہونے کی وجہ سے بھی کارکن کو جلدی ہوتی ہے کہ جلسہ کا پروگرام شروع ہونے والا ہے اس لئے کھانے کی مارکی میں یا ڈائننگ کی مارکی میں جو کارکن ہیں وہ جلدی کر رہے ہوتے ہیں کہ مہمان جلدی کھانا کھا ئیں اور جائیں۔تو جو واقعہ میں بیان کرنے لگا ہوں ، اُس میں یہ کھانا کھلانے والے کارکنان کی مہمان نوازی کا جو اخلاق ہونا چاہئے ، جو معیار ہونا چاہئے اُس کے بارے میں بیان ہوا ہے۔حضرت میاں خیر دین صاحب سیکھوانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اپنے گاؤں سیکھواں سے قادیان پہنچا۔جب میں گول کمرے کے سامنے ہوا تو حضرت صاحب گول کمرے میں مع چند ا حباب کھانا تناول فرما رہے تھے۔میں نے اندر جا کر سلام کیا تو حضور نے نہایت