خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد دہم 530 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہوگئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی۔اس لئے یہ مجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں، اُن کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے“۔اس ارشاد میں جن باتوں کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے، اُن میں سے دو اہم باتیں ہیں اور ہر ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 292۔ایڈیشن 2003 ء۔مطبوعہ ربوہ ) کارکن کو ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔صرف کھانا کھلانے والے کارکن نہیں بلکہ ہر کارکن جس کا جلسہ کے انتظام کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔پہلی بات یہ فرمائی کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جائے ،مہمانوں کو آرام دینے کا معاملہ صرف کھانا کھلانے کی حد تک نہیں ہے۔اس میں آنے والے مہمان کی رہائش کے بارے میں بھی ہدایت ہے۔ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ کے بہتر انتظام کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ اس سے بھی مہمانوں کو بعض اوقات کوفت اُٹھانی پڑتی ہے اور بعض دفعہ اس طرح کی شکایات آتی رہتی ہیں کہ بڑی دور سے آنا پڑا۔کاروں کی پارکنگ دور تھی ، چل کر آنا پڑا یا وہاں سے جو بس سروس چلائی گئی اُس میں با قاعدگی نہیں تھی، یا ہم اتنے لیٹ ہو گئے۔اسی طرح غسل خانوں اور ٹائٹلٹس کا کافی انتظام ہونا چاہئے ، اچھا انتظام ہونا چاہئے اور صفائی کی طرف توجہ بھی ہونی چاہئے۔گزشتہ سال کی کمیوں کو سامنے رکھ کر یہ انتظام دیکھ لینا چاہیے۔ٹکٹ کی چیکنگ کا انتظام ہے یا راستوں سے گزرنے کا انتظام ہے، خاص طور پر جو غیر مہمان آتے ہیں اور معذور افراد کیلئے تو ایسا انتظام ہو کہ انہیں زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑے۔اسی طرح چھوٹے بچوں والی ماؤں کے لئے بھی بہتر انتظام ہونا چاہئے تا کہ خاص طور پر بارش یا تیز دھوپ میں وہ جلدی جلدی گزرجائیں۔پھر ایک یہ بات بھی آپ نے اس میں فرمائی ہے جس کا ہر ایک سے تعلق ہے کہ مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے۔مہمان کا دل شیشہ کی طرح نازک ہوتا ہے۔پس اس نازک دل کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔اگر خیال رکھا جائے اور باقاعدہ سہولتیں مہیا کی جائیں تو عموماً شکوے پیدا نہیں ہوتے۔لیکن پھر بھی اگر کوئی مہمان اپنی طبیعت کی وجہ سے شکوہ کرتا ہے اور ایسی بات کرتا ہے جو مناسب نہیں، تو کارکنان کا کام ہے کہ صبر اور حوصلہ سے اسے برداشت کریں، نہ کہ آگے سے جواب دیں۔