خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 516

خطبات مسرور جلد دہم 516 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء طاقت نہ تھی مگر خدا تعالیٰ نے دل میں جوش ڈال دیا اور پیدل سفر کر نے کے لئے تیار ہو گیا۔اُس وقت میں پٹنہ میں تھا۔چلتے وقت لوگوں نے مشورہ دیا کہ والدین سے مل کر جاؤ۔میں نے انکار کر دیا کہ ممکن ہے والدہ کی نوحہ و فریاد سے میری ثبات قدمی جاتی رہے اور قادیان جانے کا ارادہ ترک کر دوں۔بہر حال چلا اور چلا۔چلتے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعود کولکھا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔میرے حالات سفر یہ ہیں۔( پیسہ پاس نہیں ، کمزور صحت لیکن میں نے سفر کا ارادہ کر لیا۔میں بہت کمزور اور نحیف ہوں اور ایک کارڈ بھائی صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے کہ میں جار ہا ہوں۔اگر قادیان پہنچا تو خط لکھوں گا۔اور اگر راستے میں مر گیا تو میری نعش کا بھی کسی کو پتہ نہ لگے گا۔( کہتے ہیں) میں نے سفر کے لئے احتیاطی پہلو اختیار کر لئے تھے۔ریلوے لائن کا نقشہ رکھ لیا تھا۔پس جلدی جلدی چند درسی کتب فروخت کر کے کچھ پیسے رکھ لئے تھے۔( کہتے ہیں ) میں کمزور بہت تھا اور مسافت دور کی تھی۔(اس لئے ) پچاس ساٹھ میل تک ریل کا سفر کیا تا کہ اگر صحت ( کی کمزوری کی وجہ سے میں نے ) کمزوری دکھائے تو کوٹنے کی ہمت نہ ہو۔‘ ( کیونکہ پھر ساٹھ ستر میل کا فاصلہ ہو چکا ہوگا اور کوٹنے کی ہمت نہیں ہوگی۔) اور بجائے واپس ہونے کے آگے ہی آگے چلتا رہوں گا۔( کہتے ہیں) میں اس سفر میں تیس تیس میل روزانہ چلتا رہا۔جہاں رات ہوتی ٹھہر جاتا، کبھی سٹیشن پر اور کبھی گمٹیوں میں۔پاؤں کے دونوں تلوے زخمی ہو گئے تھے۔( یہ دعا کرتا تھا) خدایا آبرورکھیو میرے پاؤں کے چھالوں کی۔“ جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ظہر تا تو شدت درد کی وجہ سے پاؤں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔صبح ہوتی نماز پڑھتا اور چلنے کے لئے قدم اُٹھاتا تو پاؤں اپنی جگہ سے ملتے نہیں تھے۔باہزار دشواری انہیں حرکت دیتا اور ابتدا میں بہت آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آ جاتا۔پاؤں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے تھے کیونکہ چھالوں سے پر تھے بلکہ چمڑہ اُتر کر صرف گوشت رہ گیا تھا ( لیکن قادیان جانے کا شوق تھا اس لئے چلتے چلے جارہے تھے۔کہتے ہیں ) کہ اس لئے کبھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چھ چڑھ کر بدن کولر زادیتی تھیں۔کبھی ریل کی پٹڑی پر چلتا اور کبھی عام شاہراہ پر اتر آتا۔بڑے بڑے ڈراؤنے راستوں سے گزرنا پڑا۔ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ منہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا جن کا خوفناک منظر دل کو ہلا دیتا۔علی گڑھ شہر سے گزرا مگر مجھے خبر نہیں کہ کیسا ہے؟ ( گزر تو گیا اُس شہر سے لیکن مجھے نہیں پتہ کیسا ہے کیونکہ میرا مقصد تو صرف ایک تھا اور میں چلتا چلا جارہا تھا۔) اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں؟ البتہ چلتے چلتے دائیں بازو پر کچھ فاصلے پر سفید عمارتیں نظر آئیں اور پاس سے گزرنے والے سے پوچھ کر کہ یہ عمارت