خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد دہم 515 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء م پٹنہ شہر میں کسی طرف جا رہے تھے کہ دو شخص یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ پنجاب میں کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔بھائی صاحب کو بچپن سے قرآن شریف سے محبت ہے۔اس لئے یہ سن کر حیران سے رہ گئے کہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں ( کہ دعویٰ کیا ہے؟) کہنے والے تو چلے گئے۔شاید اسٹیشن ماسٹر کو معلوم ہو۔چنانچہ اُن کا خیال درست نکلا۔( سٹیشن ماسٹر کے پاس گئے۔) نام و پتہ وغیرہ دریافت کر کے مکان پر آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک خط لکھا کہ مجھے آپ کے حالات معلوم نہیں۔صرف نام سنا ہے۔اگر براہ کرم اپنی تصانیف بھیج دیا کریں تو پڑھ کر واپس کر دیا کروں گا۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتابیں بھجواتے رہے اور بھائی صاحب پڑھ پڑھ کر واپس کرتے رہے۔لوگوں نے اُسی وقت سے مخالفت شروع کر دی مگر بھائی صاحب نے استقلال سے کام لیا اور کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔میں نے بھی کچھ عرصے بعد بھائی صاحب کے ذریعے کتابیں پڑھیں اور بیعت کر لی۔احمدیت سے کچھ عرصہ پہلے ( یعنی احمدیت قبول کرنے سے پہلے میں شہر سے ) گھر گیا۔اور اتفاق سے والد صاحب کے ساتھ سویا۔خواب میں والد صاحب کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تیرا یہ لڑ کا جو تیرے ساتھ سویا ہوا ہے۔بہت بڑا وکیل ہوگا۔لیکن جب احمدی ہو گیا تو اُس وقت والد صاحب سے کہا کہ آپ کے خواب کی تعبیر میرا احمدی ہونا ہے۔( تب میں نے والد صاحب کو کہا۔آپ نے جو خواب میں بڑا آدمی دیکھا تھا یہ اس طرح پوری ہوئی ہے۔) کہتے ہیں کہ ابھی دوسال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے ( کچھ عرصہ بعد یہ بیمار ہو گئے اور بڑا لمبا عرصہ دو سال کے قریب بیماری چلی، اور خطر ناک بیماری تھی۔کہتے ہیں ) پوری طرح صحت یاب بھی نہیں ہوا تھا کہ قادیان آنے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرهم براہِ یار تو یکساں کردی کہ محبت نے ایسے آثار نمایاں کئے ہیں کہ یار کی محبت میں زخم اور مرہم برابر ہو گئے ہیں۔کہتے ہیں کہ ) بھائی صاحب نے اصرار کیا کہ قادیان میں خزانہ نہیں رکھا ہوا۔( جب میں نے قادیان جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہاں خزانہ نہیں ہے اس لئے اگر تم نے جانا ہی ہے تو) کم از کم میٹرک کا امتحان پاس کر کے جانا تا کہ وہاں تکلیف نہ ہو۔والدین غیر احمدی تھے ( اُن سے تو کوئی امید نہیں تھی۔) الغرض کسی نے زادِ راہ نہیں دیا۔نہ بھائی مانا نہ والدین سے لے سکا۔) بیماری کی وجہ سے میرا جسم بہت ہی کمزور اور ضعیف ہو رہا تھا۔مجھ میں دو چار میل بھی چلنے کی طاقت نہ تھی۔بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک میل چلنے کی بھی