خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 517

خطبات مسرور جلد دہم 517 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء کیسی ہے؟ اور اُس کے یہ کہنے پر کہ کالج کی عمارت ہے، آگے چل پڑا۔دہلی شہر سے گزرا اور ایک منٹ کے لئے بھی وہاں نہ ٹھہرا کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔وہاں کے بزرگوں کی زیارت میرا مقصود نہ تھا۔اس لئے میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔زخمی پیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانے میں ٹھہرا۔چند منٹ کے بعد حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دودھ کا ایک گلاس دیا۔میری جیب میں پیسے نہیں تھے۔اس لئے لینے سے انکار کر دیا۔آخر اُن کے کہنے پر کہ خرچ سے نہ ڈریں۔آپ کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔(دودھ پی لیں دودھ ) پی لیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ کہ قادیان میں سب سے پہلی غذا دودھ ملی۔میری موجودگی میں بہت سے لوگ آئے مگر کسی کو بھی دودھ کا گلاس نہیں دیا گیا ( صرف مجھے ہی دودھ کا گلاس پیش کیا گیا۔کہتے ہیں) اسی روز سے میں اب تک ہر چیز کا ناواقف ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود سے ملا۔حضور حالات دریافت کرتے رہے۔لوگ بیعت کرنے لگے تو حضور نے خود ہی مجھے بھی بیعت کے لئے کہا۔میں اُس وقت حضور کے پاؤں دبار ہا تھا۔یہی ایک جنون تھا جو کام آ گیا ورنہ آج صحابیوں کی فہرست میں میرا نام کس طرح آتا ؟ اے جنوں گرد تو گردم که چه احساں کر دی اللّهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ (پھر آگے بیان کرتے ہیں کہ ) خلیفہ اول نے زخموں کا علاج کیا اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو تعلیم کے لئے مقرر کر دیا اور بعد میں خود تعلیم دیتے رہے۔(پیروں کے جو زخم تھے اُن کا علاج حضرت خلیفہ اول نے کیا اور حضرت حافظ روشن علی صاحب اور خلیفہ امسیح الاول " پھر تعلیم دیتے رہے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ مئی 1908ء میں یہ قادیان کے ہو رہے۔) مئی 1908ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور تشریف لے گئے اور بعد میں حضرت خلیفہ اول کو بھی بلوا بھیجا تو حضرت خلیفہ اول مجھے بھی ساتھ لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں آپ کے دائیں بازو میں کھڑا تھا۔لاہور سے جنازہ کے ساتھ قادیان آیا۔جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باغ میں لوگوں سے بیعت لی۔میں اُس وقت چار پائی پر آپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اُس وقت جو تقریر کی اور حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے رورو کر جو معافی مانگی وہ میرے دماغ میں اب تک گونج رہا ہے۔بیعت کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔پھر باغ والے مکان میں حضرت کا تابوت زیارت کے لئے رکھا گیا اور چہرے سے کپڑا اتار دیا گیا۔لوگ ย مغربی دروازہ سے گزر کر زیارت کرتے ہوئے مشرقی دروازہ سے نکل جاتے۔“ (رجسٹر ز روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 4 صفحہ 25 تا 28۔روایت حضرت سید محمود عالم صاحب)