خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 514

خطبات مسرور جلد و هم 514 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء حیران تھا کہ خدایا! یہ کیا ماجرا ہے؟ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا، گو یا حضور کا ابتدائی زمانہ تھا، گو مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ حضور اسی ملک میں تشریف رکھیں گے مگر حضور نے کوچ کا حکم دیا۔میں نے روکر عرض کی (کہ) حضور جاتے ہیں۔میں کس طرح مل سکتا ہوں۔میرے شانہ پر حضور نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا۔گھبراؤ نہیں ہم خود تم کو ملیں گے۔(اس خواب کی تفہیم ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب رسول عربی ہیں۔مجھے فعلی رنگ ( میں ) سمجھایا گیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ۔میں نے بیعت کا خط لکھ دیا مگر بتاریخ 27 دسمبر 1898 ء بروز منگل قادیان حاضر ہو کر بعد نماز مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عنایت فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تنزل میں نہیں ڈال سکا مگر یہ سب حضور کی صحبت کا طفیل تھا جو بار بار حاصل ہوئی اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا (یعنی دبانے کا) فخر ہے۔گو مجھے اعلان ہونے پر رنگارنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کیا اور میرے والد اور بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہو گئے ، الحمد للہ لکھتے ہیں کہ اگر طوالت کا خوف نہ ہو تو میں چند واقعہ اور تحریر کرتا اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ درود تاج احمدی ہونے کے بعد بھی پڑھا کرتا تھا۔یہ بھی درود کی ایک قسم ہے۔انہوں نے جو مختلف جو درود بنائے ہوئے ہیں۔”میرے استاد مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی جو میرے بعد احمدی ہو گئے تھے۔مجھے منع فرماتے تھے کہ شرک ہے۔مت پڑھا کرو۔میں نے کہا کہ مسیح موعود سے کہلا دو پھر چھوڑ دوں گا۔اتفاقاً کسی جلسہ سالانہ پر خاکسار اور مولوی صاحب بھی موجود تھے۔حضور ہوا خوری کے لئے (سیر کے لئے) نکلے، مولوی صاحب نے اس موقع پر عرض کیا کہ حضور منشی رحمت اللہ صاحب درود تاج پڑھتے ہیں، میں نے منع کیا کہ یہ شرک ہے۔حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا ( کہ ) کیا ہے؟ درود تاج پڑھو۔( مجھے بتاؤ یہ کونسا درود ہے جو تم پڑھتے ہو؟ میں نے پڑھ کر سنایا۔فرمایا اس میں تو شرک نہیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا کہ اس یہ الفاظ ہیں۔دَافِعُ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرَضِ وَالْآلَمِ۔تو حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو لوگوں نے سمجھا نہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ حضور کا نام دافع البلاء اور وباء ہے۔بہت لمبی تقریر فرمائی۔مولوی صاحب خوش ہو گئے اور فائدہ عام کے لئے تحریر کیا گیا۔(پھر بعد میں مضمون لکھا ) میں (رجسٹر ز روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 3 صفحہ 58 تا 60۔روایت حضرت رحمت اللہ صاحب) حضرت سید محمود عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1903ء میں میرے بڑے بھائی سید محبوب