خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد دہم 513 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء سے لبریز تھے۔خدا جانتا ہے کہ میں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا۔اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہو گئی تو ہوگئی ، ور نہ کتاب پڑھتار ہا اور روتا رہا کہ خدا یہ کیا معاملہ ہے کہ مولوی لوگ کیوں قرآن شریف کو چھوڑتے ہیں؟ ( تقویٰ ہو تو پھر انسان اس حالت میں کتاب پڑھتا ہے ) کہتے ہیں ” خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا۔میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسی علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں۔آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات اور احادیث ہیں تحریر فرما دیں، اور ساتھ جو تمیں آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں ( کی ) تردید فرما کر میرے پاس بھجوا دیں، میں شائع کروادوں گا۔جواب آیا کہ آپ عیسی کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرز اصاحب یا اُس کے مریدوں سے بحث مت کرو کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں، یہ مسئلہ اختلافی ہے۔اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعود ہیں؟ ( اس پر بحث نہ کرو کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے یا زندہ ہیں ، اس پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعود ہیں؟ کیونکہ قرآن کریم تو وفات مسیح کی تائید کرتا ہے۔کہتے ہیں میں نے ) جواب میں عرض ہوا کہ اگر حضرت عیسی ی فوت ہو گئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔جواب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثر ہو گیا ہے، میں دعا کروں گا۔( کہتے ہیں ) جواب میں (میں نے ) عرض کیا گیا کہ آپ اپنے لئے دعا کرو۔آخر میں آستانہ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہو کر بہہ نکلا۔گویا میں نے عرش کے پائے کو ہلا دیا۔( عرض کی ) خدایا مجھے تیری خوشنودی درکار ہے۔میں تیرے لئے ہر ایک عزت کو شمار کرنے کو تیار ہوں اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا۔تو مجھ پر رحم فرما۔تھوڑے ہی عرصے میں میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ بوقت صبح قریباً چار بجے پچیس دسمبر 1893ء بروز سوموار جناب سید نا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسار موضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کر رہا تھا یہ خواب کی تفصیل بتا رہے ہیں )۔کسی نے مجھے آ کر کہا کہ رسول عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔میں نے کہا کہاں ؟ اُس نے کہا یہ خیمہ جات حضور کے ہیں۔میں جلد نماز ادا کر کے گیا۔حضور چند اصحاب میں تشریف فرما تھے۔بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔میں باادب بیٹھ گیا۔حضور ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) عربی میں تقریر فرما رہے تھے۔خاکسارا اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا اور پھر اردو بولتے تھے۔فرمایا میں صادق ہوں۔میری تکذیب نہ کرو۔وغیرہ وغیرہ۔میں نے کہا امنا صَدَّقْنَا يَا رَسُوْلَ اللہ۔تمام گاؤں مسلمانوں کا تھا مگر کوئی نزدیک نہیں آتا تھا۔میں (خواب میں)