خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد دہم 512 خطبه جمعه فرموده مورخه 24 اگست 2012 ء (انہوں نے بتلایا کہ ہم دونوں بھائی قادیان کے نزدیک رہنے والے ہیں اور چھاؤنی میاں میر فوج میں ملازم ہیں۔باپ کے بیمار ہونے پر گھر آئے۔اُن کو سخت تکلیف ہورہی تھی۔سکھ قوم کے ایک بزرگ نے ہمارے باپ کو کہا کہ لا الهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھو تا کہ تمہاری جان بحق ہو۔ہمارے باپ نے ایسا ہی کیا اور جان بحق ہو گئے۔ہم پر اس کا یہ اثر ہوا کہ بجائے اخیر وقت کے پہلے اس کلمہ کو پڑھ لینا چاہئے۔مرزا صاحب نے دعوی کیا ہوا تھا۔دوسرے دن ( ان سکھوں نے ) مستورات کو اپنے ارادہ کے ساتھ ملانے کے لئے کہا۔مگر انہوں نے شور مچا دیا۔قوم سکھ جمع ہوگئی۔ہم نے اُن سے قادیان کی طرف فرار اختیار کیا۔وہ ڈانگ سوٹا لئے ( ہمارے ) تعاقب کو آ رہے ہیں۔جلدی کی ضرورت ہے۔( خیر کہتے ہیں) اس اثنا میں اذان ہو گئی۔خاکسار مع ان کے مسجد مبارک پہنچا۔چھوٹی سی مسجد اس قدر بھری ہوئی تھی کہ تیل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔( یہ دونوں سکھ بھائیوں کا واقعہ انہوں نے بیان کیا ہے اس کے بارہ میں میں نے کہا ہے کہ تحقیق کر کے پتہ کریں یہ کون تھے اور پھر احمدی ہوئے بھی کہ نہیں ، بہر حال انہوں نے اپنے واقعہ میں یہ لکھا ہے۔کہتے ہیں کہ جب ہم مسجد پہنچے ہیں تو کہیں جگہ نہیں تھی۔) جوتیوں میں حیران کھڑا ہو گیا۔واقفیت بھی کسی سے نہ تھی۔معاً حضرت صاحب نے محراب والا دروازہ کھولا اور لوگ کھڑے ہو گئے۔خاکسار لوگوں کی ٹانگوں سے گزرتا ہوا حضور کے آگے جا کھڑا ہو گیا۔حضور بیٹھ گئے۔خاکسار حضور کے آگے بیٹھ گیا۔حضور نے پوچھا تم کون ہو؟ عرض کیا بیعت کے لئے آیا ہوں۔عریضہ خاکسار نے بھیجا تھا۔مولوی صاحب نے دیگر لوگوں کے لئے جو خاکسار سے پہلے بیعت کے لئے بیٹھے تھے، بیعت کرنے کو عرض کی۔حضور نے خاکسار کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا اورفرمایا کہ اس بچے پر ہاتھ رکھو۔چنانچہ حضور کے حکم کے مطابق سب نے خاکسار کی پشت پر ہاتھ رکھا۔بیعت ہوئی۔حضور نے دعا فرمائی۔پھر نماز ہوئی۔(رجسٹر ز روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 3 صفحہ 53 تا 55۔روایت حضرت ملک عمر خطاب صاحب) حضرت رحمت اللہ صاحب احمدی پیشتر بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا۔میری عمر اس وقت قریباً سترہ اٹھارہ برس کی ہوگی اور طالبعلمی کا زمانہ تھا۔میں حضور کی خدمت اقدس میں گاہے بگا ہے حاضر ہوتا۔مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے ، مگر گردونواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔اسی اثنا میں حضور کا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا جس میں میں شامل تھا۔اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہر دو حصے بھیجے۔وہ سراسر نور و ہدایت