خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 511
خطبات مسرور جلد دہم 511 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اگست 2012 ء ستمبر 1907ء میں رعیہ ضلع سیالکوٹ میں اپنے سسر کو ملنے گیا جہاں وہ جمعدار تحصیل تھے، میری ملاقات مکرمی حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم انچارج ہسپتال۔رعیہ سے ہوئی۔اُن کے ہمراہ میں قادیان گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ظہر کی نماز کے وقت زیارت کی۔جو حلیہ حضور کا 1903ء کی خواب میں میں نے دیکھا تھا، وہ حلیہ اُس وقت تھا اور کپڑے بھی ویسے ہی تھے“۔پس یہ چیز پھر بیعت کا باعث بن گئی۔(رجسٹر ز روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ 33۔روایت حضرت ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب) حضرت ملک عمر خطاب صاحب سکنہ خوشاب بیان کرتے ہیں کہ خاکسار جب سن بلوغت کو پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی مامور من اللہ سننے میں آیا۔شوق پیدا ہوا کہ جس قدر جلدی ہو سکے خدمت میں پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کرے۔بفضل ایزدی سال 1905ء میں اپنے دلی ارادہ کے ماتحت قادیان پہنچا۔ایک چھوٹی سی بستی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ اور چند طالبعلموں کا درس جس کی تدریس مولانا حضرت حکیم نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، نظر سے گزرے۔یہ قادیان کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔چھوٹی بستی ہے ، کچی دیواروں کا مہمان خانہ ہے، چند طالبعلم ہیں اور اُس وقت حضرت مسیح موعود کا دعویٰ پہنچا۔( کہتے ہیں اس قدر دعوئی اور موجودہ بستی پر حیرانگی کا ہونا ممکنات سے تھا۔“ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قدر بڑا دعویٰ ہے اور بستی کی یہ حالت ہے۔اس پر حیرانگی ہوئی۔یہ تو ظاہر ہے حیرانگی ہوئی تھی کیونکہ یقین نہیں آ سکتا تھا۔لیکن کہتے ہیں ) مگر باوجود اس کے قلب صداقت پر شاہد تھا۔“ ساری چیزیں دیکھنے کے باوجود اس بات پر یقین ہو رہا تھا کہ یہ جو دعویٰ ہے وہ ضرور سچا ہے۔کہتے ہیں کہ لبیک کہتے ہوئے بغیر ملنے مولوی صاحب موصوف کے جو ہم وطن تھے ( یعنی حضرت خلیفہ اصبح الاول کے ) ایک عریضہ حضور کی خدمت میں اندر بھیجا۔اُس میں عرض ہوا کہ حضور باہر تشریف لائیں، بیعت کرنی ہے۔( یہ لکھا کہ حضور باہر تشریف لائیں۔میں نے بیعت کرنی ہے ) اور آج ہی واپس جانا ہے۔حضور نے تحریری جواب بھیجا کہ وسمہ لگایا ہوا ہے۔ابھی ایک بجے اذان ہوگی۔مسجد مبارک میں آ جاؤں گا۔اسی اثنا میں دو شخص قوم سکھ مہمان خانے میں دوڑتے ہوئے آگئے۔وہاں سوائے خاکسار کے اور کوئی نہ تھا۔کہنے لگے حجام کو جلدی بلوا دیں۔کیس کٹوانے ہیں۔یعنی اپنے بال کٹوانے ہیں اور بیعت کرنی ہے۔خاکسار نے ناواقفی کا اظہار کیا۔حجام کا ملنا بہت مشکل تھا۔اس آمد کی اطلاع بھی حضور کو خاکسار نے بذریعہ عریضہ بھیجی۔حضور نے اس پر بھی مندرجہ بالا جواب دیا۔خاکسار نے اُن کی گھبراہٹ کی نسبت دریافت کیا تو